غذر میں بادل پھٹنے سے سیلاب، شاہراہ قراقرم سمیت سڑکیں متاثر

نوبہار گاؤں میں سیلابی پانی سے گھروں، زرعی اراضی، فصلوں اور پھل دار درختوں کو نقصان پہنچا

September 6, 2026 · قومی

 گلگت: گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں شدید بارش کے بعد بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب نے مختلف علاقوں میں نقصان پہنچایا، جس کے باعث شاہراہ قراقرم سمیت متعدد سڑکیں متاثر ہوئیں جبکہ مکانات، فصلوں، باغات اور بجلی کے نظام کو بھی نقصان پہنچا۔

ہفتے کی علی الصبح ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے غذر کے مختلف علاقوں کو متاثر کیا۔ نوبہار گاؤں میں سیلابی پانی سے گھروں، زرعی اراضی، فصلوں اور پھل دار درختوں کو نقصان پہنچا، جبکہ گش گش جماعت خانہ بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سیلاب کے باعث امیٹ سے برجنگل جانے والی سڑک بند ہوگئی اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچنے سے مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ افراد نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑک کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کرنے کے ساتھ متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جائے۔

گلگت بلتستان پولیس کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سوست سے خنجراب ٹاپ تک شاہراہ قراقرم کا ایک حصہ بند ہوا، جبکہ متعلقہ ادارے سڑک کی بحالی کے لیے کارروائی میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب ہنزہ میں مرتضیٰ آباد اور حسن آباد کے درمیان شاہراہ قراقرم کا متاثرہ حصہ ٹریفک کے لیے بحال کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔

حکام نے خراب موسمی حالات کے پیش نظر شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سفر سے قبل سڑکوں کی تازہ صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں کے دوران فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے حوالے سے سرکاری سطح پر بھی الرٹس جاری کیے گئے تھے۔

مسلسل بارش کے باعث خطے کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت میں بھی کمی آئی ہے۔ دیامر کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ پر رواں سیزن کی پہلی برف باری بھی ہوئی، تاہم بابوسر روڈ پر ٹریفک جاری رہی۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق رواں سال جون سے اگست کے دوران خطے میں بادل پھٹنے اور گلیشیئرز پگھلنے سے متعدد سیلابی واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں گھروں، زرعی زمینوں، باغات، سڑکوں، آبپاشی کے نظام اور بجلی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلگت بلتستان جیسے پہاڑی علاقوں میں شدید بارش، اچانک سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ سرکاری اداروں کی جانب سے بھی حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان کے حساس علاقوں میں شدید بارش اور فلیش فلڈ کے خدشات سے خبردار کیا گیا ہے۔