مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے پہلے جیسے مؤثر نہیں رہے: پیٹریئس
خلیجی خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو ماضی کی طرح برقرار رکھنا اب آسان اور مؤثر حکمت عملی نہیں رہی۔
فائل فوٹو
واشنگٹن: سابق امریکی سی آئی اے ڈائریکٹر اور ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی سے متعلق اہم خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو ماضی کی طرح برقرار رکھنا اب آسان اور مؤثر حکمت عملی نہیں رہی۔
ایک انٹرویو میں ڈیوڈ پیٹریئس نے ایران کی جانب سے امریکی فوجی تنصیبات اور اہم اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں موجود فوجی اڈے اور بنیادی ڈھانچہ اب فریقین کے درمیان دباؤ بڑھانے اور ایک دوسرے پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
سابق سی آئی اے سربراہ نے امریکا کی فضائی دفاعی صلاحیت پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ موجودہ تنازع میں مہنگے میزائل انٹرسیپٹرز کے وسیع پیمانے پر استعمال کے باعث مستقبل میں دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق کم لاگت والے ڈرونز اور جدید جنگی ٹیکنالوجی مستقبل کی لڑائیوں میں زیادہ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے امریکا کو یوکرین کی جنگ سے سبق حاصل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کم قیمت ڈرونز کے ذریعے نسبتاً مہنگے فوجی اور معاشی اہداف کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت ثابت ہو چکی ہے۔
پیٹریئس کا کہنا تھا کہ اگر کم مالیت کے ڈرون کو روکنے کے لیے انتہائی مہنگا میزائل استعمال کیا جائے تو یہ طویل مدت میں معاشی طور پر قابلِ عمل دفاعی حکمت عملی نہیں رہتی۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے اردن، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور عراق میں موجود بعض امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ان میں اردن کے کنگ حسین بیس، پرنس حسن اور الازرق ایئر بیس، کویت کے احمد الجابر اور علی السالم ایئر بیس، بحرین میں امریکی بحریہ سے منسلک تنصیبات، متحدہ عرب امارات کے الظفرہ اور المنہاد ایئر بیس، قطر کا العدید ایئر بیس اور عراق کے اربیل میں امریکی تنصیبات شامل ہیں۔
العدید ایئر بیس خطے میں امریکی فوج کی اہم ترین تنصیبات میں شمار ہوتا ہے، جبکہ حالیہ تنازع کے دوران امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے دعووں نے واشنگٹن کی علاقائی فوجی حکمت عملی پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔