ایم کیو ایم میں اختلافات ہیں، انتخابات سے ہی ختم ہوں گے، مصطفیٰ کمال

پارٹی کو مضبوط بنانے اور اندرونی اختلافات ختم کرنے کے لیے شفاف پارٹی انتخابات ضروری ہیں، جو اکتوبر میں ہونے جا رہے ہیں۔

September 6, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے پارٹی کے اندر اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اختلافات کا مستقل حل انٹرا پارٹی انتخابات ہی ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات موجود ہیں اور یہ صورتحال پارٹی کی نچلی سطح تک بھی پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کو مضبوط بنانے اور اندرونی اختلافات ختم کرنے کے لیے شفاف پارٹی انتخابات ضروری ہیں، جو اکتوبر میں ہونے جا رہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات کم کرنے اور معاملات بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم ممکن ہے ان کوششوں میں کوئی کمی رہ گئی ہو۔ ان کے بقول پارٹی انتخابات کے بغیر اختلافات کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کارکنان جس امیدوار کو کامیاب اور جسے ناکام قرار دیں، تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو اس فیصلے کو تسلیم کرنا ہوگا۔

ایم کیو ایم رہنما نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کے معاملے پر پارٹی کے اندر کوئی اختلاف نہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی حکمرانی اور صوبے کی صورتحال سے متعلق بھی جماعت کا مؤقف واضح ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا کہ وہ ایم کیو ایم کے اندرونی معاملات کی فکر کرنے کے بجائے اپنے امور پر توجہ دے۔

مصطفیٰ کمال نے اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے آئینی اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مجوزہ آئینی ترمیم منظور کرلی جاتی تو اختیارات اور وسائل گلی محلوں تک منتقل ہوسکتے تھے۔ ایم کیو ایم پہلے بھی بلدیاتی نظام اور انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے آئینی ترمیم کا مطالبہ کرتی رہی ہے

28ویں آئینی ترمیم سے متعلق مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت کی کامیابی یا ناکامی کا نہیں بلکہ ملک کی کامیابی یا ناکامی سے متعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے اپنے مؤقف پر قائم ہے اور ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔