وعدہ ہے کراچی پہنچے بغیر سندھ نہیں چھوڑوں گا، سہیل آفریدی
بند کمروں میں فیصلے نہیں کرنے دیں گے،27 ستمبر پاکستان کی تاریخ اور تقدیر بدلنے کا دن ہے، مختلف مقامات پر خطاب، میڈیا سے گفتگو
فائل فوٹو
حیدرآباد/ عمرکوٹ/ میرپورخاص/ ٹنڈوالہیار/ ٹنڈوجام :وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ جتنی چاہیں رکاوٹیں کھڑی کرلیں۔ میرا وعدہ ہے کہ کراچی پہنچے بغیر سندھ نہیں چھوڑوں گا۔ہم نے ہر آئینی اور جھموری راستہ اختیار کیا مگر مجبور ہو کر27ستمبر کو لانگ مارچ کرنا پڑ رہا ہے۔سندھ اور پنجاب کو خاندانی سیاست سے نجات دلوانے کیلئے نوجوانوں کو متحرک ہونا پڑے گا۔وزیر اعلی پنجاب کو اپنے بھارت سے متعلق بیان پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ بلاول نے ایک دن پہلے خوش آمدید کہا اور دوسرے دن راستے بند کروادیے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد، عمرکوٹ میں منعقدہ جلسہ عام، ٹنڈوالہیار اور ٹنڈوجام میں استقبالیہ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حیدرآباد کے مصروف ترین حیدرچوک پراستقبال کیلیے جمع کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور باقی صوبوں میں اگلی باری نوجوانوں کی ہے،نوجوانوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ اگلی حکومت کس کی ہوگی؟۔ہم اب بند کمروں میں فیصلے نہیں کرنے دیں گے، 27 ستمبر پاکستان کی تاریخ اور تقدیر بدلنے کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست پر قابض ٹولے نے ہمیشہ اپنے مفادات کو مقدم سمجھا،انہیں جب بھی موقع ملا تو پاکستان کو لوٹ کر باہر بھاگ گئے، یہ دو خاندان سندھ اور پنجاب میں قابض ہیں،سندھ اور پنجاب میں حکومت ان دوخاندانوں سے باہر نہیں جاتی۔
انہوں نے کارکنوں کو بتایا کہ میں رکشوں میں سفر کرنے والا شخص ہوں جسے عمران خان نے منتخب کرکے وزیر اعلی بنوایا، سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھاکہ پنجاب کی جعلی وزیر اعلی نے بیان دیا ہے کہ مجھے بھارت سے نہیں بلکہ تین صوبوں سے خطرہ ہے،اس بیان پر جعلی وزیر اعلی کو عوام سے معافی مانگنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر بتائیں کہ جعلی وزیر اعلی کی بات درست ہے یا آپ کی؟۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سارے بزنس بھارت میں ہیں، انڈیا کا جو یار ہے وہ غدار ہے، یہ نہ تو پہلے اور نہ آج پاکستان سے مخلص ہیں اور نہ ہونگے، یہ پاکستان کا پیسہ چوری کرکے بیرون ملک لے جاتے ہیں۔ انہوں نے چوری کے پیسے سے ایوان فیلڈ، پلازے اور ہوٹل خریدے، انہوں نے مرید کے میں ٹی ایل پی کے احتجاج میں قتل و غارت گری کرائی۔
سہیل آفریدی مزید بولے کہ حیدرآباد والے بتائیں کہ حیدرآباد کس کا ہے، یہاں کے عوام کے مینڈیٹ پر بھی ڈاکہ ڈالا گیا، جعلی مینڈیٹ سے منتخب ہونے والے یہاں کے ایم این اے اور ایم پی اے چور اور ڈاکو ہیں۔ قبل ازیں سائٹ ایریا فتح چوک اور لطیف آباد یونٹ نمبر سات کے مقامات پر قائم استقبالیہ کیمپس پر سہیل آفریدی کے قافلے کو پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں جلوس کی صورت میں حیدرچوک لایا گیا جہاں بڑی تعداد میں مرد و خواتین کارکنان نے وزیر اعلی کے پی کا استقبال اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی۔ بعدازاں شہر کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا وزیر اعلی کے پی کا قافلہ جب بائی پاس وادھ واہ گیٹ کے سامنے پہنچا تو ٹریفک جام کے باعث رک گیا۔
وادھ واہ گیٹ کے سامنے بائی پاس پر بدترین ٹریفک جام ، مال بردار اور مسافر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہی، وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی نے گاڑی سے اتر کر صورتحال کا جائزہ لیا، اس موقع پر پی ٹی آئی کے صوبائی رہنما حلیم عادل شیخ نے بریفنگ دی کہ کوٹری سے کراچی جانے والا راستہ کھلا ہے جس پر وزیر اعلیٰ کے پی قافلے کو لے کر کوٹری کے راستے روانہ ہوگئے۔
عمرکوٹ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر آئینی اور جھموری راستہ اختیار کیا مگر مجبور ہو کر 27 ستمبر کو لانگ مارچ کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈیالا جیل کے سپرنٹنڈنٹ عدالت کا حکم جوتے کے نوک پر رکھتا ہے،اب 27 ستمبر کو بتائیں گے کہ قوم اب جاگ اٹھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر مسلط دو خاندانوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، سندھ میں روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں نے عوام کے منہ کا نوالہ بھی چھین لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو فیصلے ملک کے خلاف ہیں ہم انہیں نہیں مانیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام خان سے محبت کرتے ہیں۔ جعلی وزیر اعلی پنجاب نے بیان دیا کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ دیگر صوبوں سے خطرہ ہے۔ اس بیان پر جعلی وزیر اعلی کو قوم سے معافی مانگنی چاہیئے۔ ان لوگوں کی بدولت مودی بنا ویزے رات کی تاریکی میں پاکستان آتا ہے اور پھر واپس بھی چلاجاتا ہے، ان کا کاروبار بھارت کے ساتھ منسلک ہے۔ یہ ملکی دولت لوٹ کر باہر لے جارہے ہیں۔
جلسے سے سلمان اکرم راجہ، مخدوم زین حسین قریشی، حلیم عادل شیخ اور لال مالھی و دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا کھپرو ناکہ چوک اور پوسٹ آفس چوک پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ میرپورخاص میں پوسٹ آفس چوک پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ حکمران نہ آئین کو مانتے ہیں اور نہ ہی قانون کو، جبکہ 26ویں اور 27ویں ترمیم کے بعد عدالتوں کو مفلوج بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں چوروں اور لٹیروں کو جیل میں ڈالا جاتا تھا تو وہ ڈیل کر لیتے تھے، تاہم اب حکمرانوں کو عمران خان کی صورت میں چٹان جیسا مضبوط شخص ملا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ عمران خان 15 دن کے اندر گھٹنے ٹیک دے گا، مگر عمران خان جھکنے والوں میں سے نہیں ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بہتر مستقبل کے لیے نوجوانوں کو اب باہر نکلنا ہوگا اور غلامی کی زندگی گزارنے کے بجائے آگے بڑھ کر ملک کے فیصلے خود کرنے ہوں گے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ حکمرانوں نے ہمیشہ قومی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان دینے کے بجائے ان سے بنیادی سہولیات بھی چھین لی گئی ہیں، جبکہ حکمران عوام کو پیٹ کی فکر میں مبتلا رکھ کر خود عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔وزیر اعلی کے پی قافلے کے ہمراہ ٹنڈوالہیار پہنچے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔
اس موقع پر ٹنڈوالہیار کیریا شاخ اور لیاقت گیٹ کے مقام پر خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سندھ آمد پر بلاول نے ہمیں ویلکم کیا ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے راست روکے جارہے ہیں، راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں، سندھ کے عوام مہمان نواز ہیں ، وہ اپنے مہمانوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کرے گی، سندھ کے عوام بہادر ہیں اور وہ رکاوٹوں کے باوجود ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔
سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو کارکنان کو جمع ہونے کی دعوت بھی دی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ٹنڈوجام اور جھیجھو ہاؤس، ڈیٹھا اسٹیشن پہنچنے پر شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر کارکنان نے وزیراعلیٰ کے حق میں نعرے لگائے اور ان کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ استقبال کے لیے موجود افراد نے سہیل آفریدی کو پھولوں کے ہار پہنائے جبکہ مختلف مقامات پر ان کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے استقبال کرنے والے کارکنان اور شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہم کراچی ضرور جائیں گے، راستے میں جتنی مرضی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں، کراچی پہنچ کر رہوں گا۔ جہیجو ھاؤس پہچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ لوگ نہیں چاہتے کہ میں کراچی پہنچوں، تاہم اگر رکاوٹوں کے باعث آج کراچی نہ پہنچ سکا تو کل ضرور پہنچوں گا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ میرا وعدہ ہے کہ کراچی پہنچے بغیر سندھ نہیں چھوڑوں گا۔