پشاور نرسنگ کالج میں احتجاج،11 طلبا کی گرفتاری کی اطلاع

پولیس تشدد کا الزام،انتظامیہ کا شرپسند عناصر کی جانب سے ہراساں کرنے کا مؤقف

September 7, 2026 · قومی

فائل فوٹو

پشاور:پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ حیات آباد کے طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا، جبکہ احتجاج کے دوران 11 طلبہ و طالبات کی گرفتاری کی اطلاع ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے احتجاج کے دوران طلبہ پر تشدد کیا، جبکہ خواتین طلبہ پر گاڑی چڑھانے کی کوشش بھی کی گئی۔ طلبہ کے مطابق پولیس نے گاڑی اس وقت مبینہ طور پر مظاہرین پر چڑھا دی جب وہ اسے روکنے کی کوشش کررہے تھے۔

طلبہ ہاسٹل نہ ملنے، کلینیکل پریکٹس اور دیگر مطالبات کے حق میں احتجاج کررہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اساتذہ نجی اداروں میں جاکر کلاسز لے رہے ہیں، جبکہ کالج میں ان کی کلاسز باقاعدگی سے نہیں ہورہیں۔

مظاہرین کے مطابق ادارے کی جانب سے انٹرن شپ بھی نہیں کرائی جارہی، جس کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں کلینیکل روٹیشن بھی نہیں کرائی جارہی، حالانکہ یہ نرسنگ کے نصاب کا لازمی حصہ ہے۔

دوسری جانب حیات آباد پوسٹ گریجویٹ کالج میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق کالج انتظامیہ کے مؤقف کے مطابق چند شرپسند عناصر نے پرنسپل، خواتین اور فیکلٹی ممبران کو ہراساں کیا، خوف و ہراس پھیلایا اور کالج کا ماحول خراب کیا۔

انتظامیہ کے مطابق شرپسند عناصر نے کالج کے دروازے اندر سے زبردستی بند کیے اور پرنسپل کے دفتر میں داخل ہوکر پرنسپل، خواتین اور فیکلٹی ممبران کو ہراساں اور ڈرایا دھمکایا، جس سے کالج میں افراتفری پھیل گئی اور ایک انتہائی غیر محفوظ ماحول پیدا ہوگیا۔

کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس عمل سے کالج کے نظم و ضبط اور سکیورٹی کے حوالے سے سنگین صورتحال پیدا ہوئی، جس پر قانونی مدد اور کارروائی کے لیے مقامی پولیس سے رابطہ کیا گیا۔

انتظامیہ کے مطابق پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے موقع پر پہنچ کر پرنسپل، خواتین اور فیکلٹی ممبران کو تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کرنے کی کوشش کی۔

کالج انتظامیہ کے مطابق اس دوران شرپسند عناصر نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، جبکہ سرکاری گاڑیوں کے شیشے توڑ کر انہیں نقصان پہنچایا گیا۔

پولیس نے قانونی کارروائی کے لیے چند افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔