نائن الیون پر میئر ظہران ممدانی نے نئے انکشافات کردیئے-دستاویزات جاری

ٹوئن ٹاورز کے ملبے سے اٹھنے والی گرد و غبار اور دھویں میں موجود خطرناک مادوں کے باعث ہزاروں افراد کو بعد میں صحت کے مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا

September 9, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیویارک: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں سے متعلق ایک لاکھ 70 ہزار نئی دستاویزات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں کے بعد گراؤنڈ زیرو کے اطراف زہریلی ہوا کے خطرات سے شہریوں کو مکمل اور درست معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

میئر ظہران ممدانی کے مطابق ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے کے قریب کیے گئے متعدد ماحولیاتی ٹیسٹوں میں ایسبیسٹوس سمیت خطرناک آلودگی کے شواہد سامنے آئے تھے، تاہم اس وقت شہریوں کو علاقے کی ہوا محفوظ ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جن حکام پر شہریوں نے اعتماد کیا، ان کی جانب سے زہریلی ہوا سے متعلق یقین دہانیاں لوگوں کو گمراہ کرنے کا باعث بنیں۔ نئی دستاویزات سے 9/11 کے بعد پیدا ہونے والی ماحولیاتی صورتحال اور حکومتی اقدامات سے متعلق مزید معلومات سامنے آئی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق ٹوئن ٹاورز کے ملبے سے اٹھنے والی گرد و غبار اور دھویں میں موجود خطرناک مادوں کے باعث ہزاروں افراد کو بعد میں صحت کے مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں کینسر سمیت متعدد بیماریاں شامل ہیں۔

9/11 متاثرین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ٹی وی میزبان جون اسٹیورٹ نے بھی نئی دستاویزات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیویارک شہر کو اکتوبر 2001 تک مین ہٹن کی فضائی آلودگی کی سنگینی کا مکمل اندازہ نہیں تھا۔

جاری کیے گئے ریکارڈ میں فضائی معیار سے متعلق رپورٹس، حکام کے درمیان خط و کتابت اور متاثرہ علاقے کی صفائی سے متعلق ہدایات بھی شامل ہیں۔ ایک دستاویز میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ صحت سے متعلق سرکاری ہدایات کے باعث شہری متاثرہ علاقے میں جلد واپس آئے، جس سے انہیں خطرناک مواد کا سامنا ہوسکتا تھا۔

ایک اور یادداشت میں شہریوں کو ملبہ اور گرد صاف کرنے کے لیے گیلے کپڑے اور موپس استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا، حالانکہ ایسبیسٹوس کی موجودگی کی صورت میں صفائی کا کام تربیت یافتہ اور لائسنس یافتہ ماہرین سے کرایا جانا چاہیے تھا۔

نئی دستاویزات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی سمیت شہر اور وفاقی حکام نے حملوں کے ابتدائی دنوں میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے اطراف کی فضا کو محفوظ قرار دیا تھا۔ تاہم بعد کی تحقیقات میں ہوا میں خطرناک کیمیکلز کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے۔

امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی اُس وقت کی سربراہ کرسٹین ٹوڈ وٹمین نے بعد میں اس معاملے پر معذرت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ادارے نے اس وقت دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کی تھی۔

میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ سابقہ انتظامیہ نے 9/11 سے متعلق مزید معلومات اور وضاحت طلب کرنے والوں کے مطالبات کو مناسب اہمیت نہیں دی، تاہم ان کی انتظامیہ مزید ریکارڈ عوام کے سامنے لائے گی۔ ان کے مطابق آئندہ ایک سال کے دوران مزید دستاویزات بھی جاری کی جائیں گی۔

9/11 متاثرین کے خاندانوں اور متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ نئی معلومات سامنے آنے سے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی بیماریوں اور زہریلی فضائی آلودگی کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

واضح رہے کہ 9/11 حملوں کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر یہ دستاویزات ایک قانونی کارروائی کے بعد منظرعام پر آئی ہیں، جس میں متاثرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے متعلقہ ریکارڈ جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔