گل پلازہ کیس، ملزمان کی جے آئی ٹی بنانے کی استدعا مسترد

سٹی کورٹ کراچی میں مقدمے کی سماعت ہوئی، تنویر پاستا سمیت دیگر ملزمان پیش ہوئے۔

September 9, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: گل پلازہ آتشزدگی کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست مسترد کردی۔

سٹی کورٹ کراچی میں مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں تنویر پاستا سمیت دیگر ملزمان پیش ہوئے۔ ملزمان کے وکیل جاوید میر نے کیس کی مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست کی، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ جے آئی ٹی عموماً دہشت گردی کے مقدمات میں تشکیل دی جاتی ہے، جس کے بعد درخواست مسترد کردی گئی۔

عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر مقدمے کے چالان کی منظوری سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جبکہ یہ بھی طے کیا جائے گا کہ سرکاری اداروں کو مقدمے میں ملزم نامزد کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ عدالت نے سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کردی۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر حسن بھٹی نے تنویر پاستا کو مبینہ طور پر سب سے زیادہ غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آگ بجھانے والے اداروں سے بروقت رابطہ نہیں کیا۔

دفاع کے وکیل جاوید میر نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے تفتیشی افسر نے بھی سرکاری اداروں کو ذمہ داری سے بچانے کی کوشش کی، حالانکہ عدالت پہلے ہی متعلقہ اداروں کو شامل تفتیش کرنے کی ہدایت دے چکی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنویر پاستا بلڈر یا عمارت کے مالک نہیں ہیں اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بھی بلڈر کے خلاف کارروائی نہیں کی۔

وکیل صفائی کے مطابق سانحے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ دوبارہ پیش کیے گئے چالان میں کے ایم سی، ایس بی سی اے، فائر بریگیڈ اور دیگر اداروں کو بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیشتر اموات آگ سے جلنے کے بجائے دھویں کے باعث دم گھٹنے سے ہوئیں اور فائر بریگیڈ کے پاس مناسب مقدار میں پانی بھی موجود نہیں تھا۔

دفاع کے وکیل نے مزید کہا کہ ڈپٹی کمشنر ساوتھ واقعے کے چند منٹ بعد جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے، تاہم تفتیشی افسر نے ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ ان کے مطابق متاثرین طویل وقت تک مدد کے لیے پکارتے رہے لیکن متعلقہ اداروں کی جانب سے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے عدالت کو بتایا کہ گراؤنڈ فلور پر 16 دروازے موجود تھے، اسی وجہ سے وہاں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، تاہم عمارت میں لوہے کی کھڑکیاں نصب ہونے کے باعث لوگوں کے باہر نکلنے میں مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد آگ میں جھلس کر بھی جاں بحق ہوئے۔

ڈی ایس پی عامر ورک کے مطابق متعلقہ ادارے دکانداروں سے فیس وصول کرتے رہے، اس لیے ان کی ذمہ داری بھی بنتی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سول ڈیفنس کو بھی تفتیش میں شامل کرلیا گیا ہے اور اس کے دو افسران کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔

تنویر پاستا نے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا تھا اور سوال کیا کہ ان کا جرم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی افراد دو سے ڈھائی گھنٹے تک زندہ تھے اور اگر فائر بریگیڈ کی سنارکل درست طور پر کام کرتی تو مزید لوگوں کو بچایا جاسکتا تھا۔

تنویر پاستا کا کہنا تھا کہ ان کے اپنے ساتھی بھی سانحے میں جاں بحق ہوئے اور انہیں ہی مقدمے میں ملزم بنا دیا گیا۔ عدالت میں بیان دیتے ہوئے وہ جذباتی ہوگئے اور رو پڑے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی سفارش پر متاثرین میں 7 ارب روپے سے زائد کی امدادی رقم تقسیم کی گئی۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے چالان اور سرکاری اداروں کی ممکنہ نامزدگی سے متعلق فیصلہ آئندہ سماعت پر کرنے کا عندیہ دیا۔