10 برس میں مصنوعی ذہانت ہمیں ختم کردے گی۔انتھروپک اور اوپن اے آئی کا ریسرچراحتجاجاً مستعفی

اوپن اے آئی اوراینتھروپک میں تحقیق کرنےوالے جیکب کاکسن نے خطرناک اے آئی دوڑ پرسوالات اٹھادیے

September 9, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

 

مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک سے استعفیٰ دینے والے 27 سالہ محقق جیکب کاکسن نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو مصنوعی ذہانت رواں دہائی کے اختتام تک انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

جیکب کاکسن گزشتہ 3 برس کے دوران اوپن اے آئی اور اینتھروپک میں مصنوعی ذہانت کی تربیت سے متعلق تحقیق کا حصہ رہے۔ استعفیٰ دینے کے بعد انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کمپنیاں انتہائی طاقتور اور خود کو بہتر بنانے والی مصنوعی ذہانت تیار کرنے کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہیں، جس سے انسانی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

محقق کے مطابق اے آئی کے شعبے سے وابستہ کئی اعلیٰ عہدیدار اور سینئر ریسرچرز نجی گفتگو میں اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے، تاہم ایک دوسرے سے پیچھے رہ جانے کے خوف کے باعث کمپنیاں اس دوڑ کو روکنے کے لیے تیار نہیں۔

جیکب کاکسن نے کہا کہ مستقبل میں سامنے آنے والے انتہائی طاقتور اے آئی نظام سائبر حملوں سمیت مختلف شعبوں میں انسانوں سے کہیں زیادہ صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں اور حقیقی دنیا کے وسائل و طاقت تک بھی تیزی سے رسائی پیدا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے اے آئی محققین پر زور دیا کہ سپر انٹیلیجنس تیار کرنے سے پہلے اس کے ذہن اور رویے کو سمجھنے کے لیے مؤثر اور سخت حفاظتی اقدامات پر توجہ دی جائے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر جاری خطرناک دوڑ کو روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں اضافے پر عارضی پابندی جیسے مشکل اقدامات پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب اینتھروپک کے صف بندی تحقیق کے سربراہ ایوان ہوبنگر نے بھی کاکسن کے خدشات کی حمایت کی ہے۔ ان کے مطابق اینتھروپک اس امکان کو تسلیم کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت تمام انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔

ایوان ہوبنگر نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر اگلی دہائی کے دوران اس خطرے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اینتھروپک اے آئی کو محفوظ بنانے کے لیے بھرپور کوشش کررہی ہے، تاہم سپر انٹیلیجنس کی صف بندی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کمپنی کے پاس ابھی مکمل منصوبہ موجود نہیں اور وہ واضح طور پر مطلوبہ راستے پر نہیں۔

ان کے مطابق موجودہ مصنوعی ذہانت کے نظام سے خطرہ نسبتاً کم ہے، جبکہ اصل تشویش ایسی سپر انٹیلیجنس کے وجود میں آنے سے ہے جو بار بار خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سمت میں پیش رفت توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے ہورہی ہے۔

واضح رہے کہ ایلون مسک نے حال ہی میں اینتھروپک کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجودہ رہنما قرار دیا تھا، تاہم وہ ماضی میں کمپنی اور اس کی مصنوعی ذہانت پر سخت تنقید بھی کرچکے ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹ میں شامل ماہرین کے مطابق جیکب کاکسن کا استعفیٰ اے آئی کی دوڑ روکنے کے لیے کافی نہیں، تاہم ان کا مؤقف اس بڑھتی ہوئی تشویش کو ضرور نمایاں کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی تیار کرنے والے ادارے اس کے ممکنہ خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود مصنوعی ذہانت کی ترقی میں تیزی لا رہے ہیں۔