جامعہ کراچی کے پروفیسر پر تشدد، مرکزی ملزم کی شناخت ہوگئی

پروفیسر عارف خان ساقی پر تشدد کا مرکزی ملزم جی ڈی اے کے رہنما کے بھائی علی گوہر شاہ کا بیٹا ہے۔ ملزم کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا اور اسے گرفتار کیا جائے گا۔

September 9, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: جامعہ کراچی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ پروفیسر عارف خان ساقی پر مبینہ تشدد کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے کا مرکزی ملزم بااثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی گرفتاری جلد عمل میں لائی جائے گی۔

سعدیہ جاوید کے مطابق پروفیسر عارف خان ساقی پر تشدد کا مرکزی ملزم جی ڈی اے کے رہنما کے بھائی علی گوہر شاہ کا بیٹا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا اور اسے گرفتار کیا جائے گا۔

سندھ حکومت کی ترجمان نے بتایا کہ واقعے میں ملوث متعدد افراد کو پولیس حراست میں لے چکی ہے، جن میں سیکیورٹی گارڈز گل شیر اور تاج محمد بھی شامل ہیں۔ پولیس نے واقعے میں استعمال ہونے والی ڈبل کیبن گاڑی کو بھی تحویل میں لے لیا ہے جبکہ متعلقہ ریسٹورنٹ کو سیل کردیا گیا ہے۔

واقعہ صفورا چورنگی کے قریب پیش آیا تھا، جہاں پروفیسر عارف خان ساقی اپنے بھتیجے کے ہمراہ جامعہ کراچی جا رہے تھے۔ پولیس اور پروفیسر کے بیان کے مطابق ایک ڈبل کیبن گاڑی نے ان کی سواری کو ٹکر ماری، جس کے بعد معاملہ تلخ کلامی سے بڑھ کر مبینہ تشدد تک پہنچ گیا۔

پروفیسر عارف خان ساقی کے مطابق انہوں نے ڈبل کیبن میں سوار افراد سے صرف یہ کہا تھا کہ آن لائن سواری چلانے والے نوجوان کی گاڑی کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے کیونکہ وہ غریب شخص ہے اور اپنی روزی کما رہا ہے۔

پروفیسر کے بیان کے مطابق اسی دوران ریسٹورنٹ کے مالک کا بیٹا وہاں پہنچا، مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ کی اور پستول کے بٹ سے انہیں سر پر مارا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اور ان کے بھتیجے کو زبردستی ریسٹورنٹ کے اندر لے جایا گیا، جہاں بھی مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔

پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد میں ریسٹورنٹ کے ملازمین اور سیکیورٹی گارڈز شامل ہیں جبکہ مرکزی ملزم تاحال پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا۔

واقعے کا مقدمہ پروفیسر عارف خان ساقی کی مدعیت میں سچل تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں اقدام قتل، تشدد، زخمی کرنے، حبس بے جا اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق پروفیسر اور ان کے بھتیجے کو مبینہ طور پر تشدد کے بعد ریسٹورنٹ میں لے جایا گیا اور وہاں انہیں کچھ دیر حبس میں رکھا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔ حکام کے مطابق تفتیش کے دوران واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

دوسری جانب جامعہ کراچی کی انجمن اساتذہ نے پروفیسر عارف خان ساقی پر تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ انجمن اساتذہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کے وقار اور تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے مرکزی ملزم کے اہلخانہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سامنے آکر پروفیسر عارف خان ساقی سے معذرت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد میں ملوث کسی بھی شخص کو اس کے اثر و رسوخ کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جائے گی۔

حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ مرکزی ملزم سمیت دیگر مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔