یمن میں حوثیوں کا 2600 مربع کلومیٹر علاقے اور اہم ساحلی شہر المخا پر قبضہ،وزیر دفاع کو یرغمال بنانے کا دعویٰ
یمنی وزیر دفاع الصالح گورنریٹ کے دورے پر تھے، جہاں نامعلوم افراد نے ان کے قافلے کو نشانہ بنایا۔
فوٹو سوشل میڈیا ( فیس بک)
یمن میں حوثیوں نے جمعرات کے روز شدید حملے کرتے ہوئے بڑی پیش قدمی کی ہے۔ عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے علاقے سے 2600 کلومیٹر علاقہ چھین لیا جب کہ ساحلی شہر المخا پر قبضہ کرلیا۔ یہ شہر بحیرہ احمر کے لیے بڑی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ یمن کے وزیر دفاع طاہر العقیلی کے قافلے پر حملے کے بعد انہیں یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جن کی بعد میں تردید کردی گئی۔
یمن کے حوثی ایک جانب سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں تو دوسری طرف انہوں نے جمعرات کو بحیرہ احمر کے ساتھ ملک کے اندر پیش قدمی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے تقریباً 2 ہزار 600 مربع کلومیٹر علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے اور اہم بندرگاہی شہر المخا پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثی فورسز نے تعز اور الحدیدہ کے مغربی اضلاع میں کارروائی کے دوران ہیس، الخوخہ، الوزیعیہ، موزع اور خالد بن ولید ملٹری کیمپ سمیت مختلف اہم مقامات پر پیش قدمی کی۔
اس دوران یمنی حکومت کی فورسز اور نیشنل ریزسٹنس فورسز، جن کی قیادت طارق صالح کرتے ہیں، کو بعض علاقوں سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ حوثیوں کی جانب سے موخہ بندرگاہ کو بھی اپنے کنٹرول میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
موخہ یمن کے مغربی ساحل پر واقع اہم بندرگاہی شہر ہے اور باب المندب آبنائے کے قریب ہونے کے باعث اسے تزویراتی اہمیت حاصل ہے۔ یہ علاقہ بحیرہ احمر سے گزرنے والے عالمی بحری تجارتی راستوں کے قریب واقع ہے۔
المخا پر کنٹرول کی صورت میں حوثیوں کو یمن کے مغربی ساحل پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے اور بحیرہ احمر کی اہم بحری گزرگاہوں کے قریب اپنی موجودگی بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔
یمن میں جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دوران بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب بحری جہازوں کی سلامتی پہلے ہی عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ حوثی فورسز ماضی میں بحیرہ احمر سے گزرنے والے مختلف بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کا دعویٰ کرتی رہی ہیں۔
اس سے قبل وسی میڈیا نے خبر دی کہ یمنی وزیر دفاع الصالح گورنریٹ کے دورے پر تھے، جہاں نامعلوم افراد نے ان کے قافلے کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملے کے دوران طاہر العقیلی کو یرغمال بنا لیا گیا۔
روسی میڈیا کے مطابق واقعے میں وزیر دفاع کے ایک محافظ کو بھی قیدی بنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ طاہر العقیلی کے محصور ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان اطلاعات کی بعد میں تردید سامنے آگئی۔
دریں اثنا یمن کی صورتحال اور انصار اللہ کے کردار سے متعلق ایران نے امریکی الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے انصار اللہ سے متعلق مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انصار اللہ یمن کی ایک خودمختار تنظیم ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ انصار اللہ کسی سے احکامات نہیں لیتی اور نہ ہی اسے کسی ملک کی پراکسی قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے خطے میں موجودہ عدم استحکام کی ذمہ داری امریکی فوجی مداخلت اور حاکمانہ پالیسیوں پر عائد کی۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ اگر واشنگٹن خطے میں حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو اسے اپنی مداخلت اور ایسی پالیسیوں کو ختم کرنا ہوگا جو خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔