راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس سے وکیل کی لاش برآمد، قتل کا مقدمہ درج
مدعی نے مقتول کے جسم پر دونوں بازوؤں، کہنیوں اور کندھوں پر زخموں کے نشانات، زہر آلود چیز دیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
فوٹو سوشل میڈیا ایکس
راولپنڈی کے نیو جوڈیشل کمپلیکس لائرز کلب کی پارکنگ میں گاڑی سے وکیل ثنا اللہ ستی ایڈووکیٹ کی لاش ملنے کے واقعے کا مقدمہ سول لائنز پولیس نے قتل کی دفعہ کے تحت درج کرلیا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ مقتول کے بھائی بیرسٹر سجاد احمد ستی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ مدعی نے مقتول کے جسم پر مختلف مقامات، خصوصاً دونوں بازوؤں، کہنیوں اور کندھوں پر زخموں کے نشانات کی نشاندہی کرتے ہوئے زہر آلود چیز دیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
بیرسٹر سجاد احمد کے مطابق انہیں اطلاع ملی تھی کہ ان کے بھائی کی لاش نیو جوڈیشل کمپلیکس کے لائرز کلب کے سامنے پارک کی گئی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود ہے۔ موقع پر پہنچنے پر ثنا اللہ ستی کی لاش گاڑی میں موجود تھی جبکہ منہ سے سفید جھاگ اور خون بھی نظر آرہا تھا۔
پولیس نے موقع پر فرانزک ٹیم کو طلب کرکے شواہد اکٹھے کیے جبکہ مقتول کے زیر استعمال دو موبائل فون بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔ ضلع کچہری راولپنڈی میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حاصل کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول کے ساتھ کام کرنے والے ان کے کلائنٹ اور منشی حماد سے متعلق معلومات بھی تفتیش کا حصہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز، کال ڈیٹا ریکارڈ اور دیگر شواہد کی مدد سے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ثنا اللہ ستی وکالت کے شعبے سے وابستہ تھے اور گلزار قائد میں اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے۔