پاکستان کیسے افغان طالبان کی مدد کرتا رہا- حکمت یار نے غصے میں یاد دلا دیا

دو بار کوئٹہ سے کابل پہنچایا، ان کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے 30 ہزار جنگجو بھیجے، آج میڈیکل کے طلبہ کو پاکستان سے نکالا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر پیغام

September 10, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان میں افغان میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ سے متعلق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے فیصلے پر افغانستان کے سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار کے تنقیدی بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شدت اختیار کر گئی۔

گلبدین حکمتیار نے اپنے بیان میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے افغان طلبہ اور ڈاکٹروں سے متعلق فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے افغان شہریوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ طلبہ قانونی ویزوں کے ذریعے پاکستان آئے اور تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس لیے انہیں تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

حکمتیار نے پاکستانی حکومت پر افغان طلبہ اور پناہ گزینوں کے حوالے سے یکطرفہ سخت رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ماضی کے تعلقات اور مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے روابط کا بھی حوالہ دیا۔

حکمتیار کے بیان کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پاکستانی اور افغان صارفین کے درمیان اس معاملے پر مختلف آرا سامنے آئیں۔

کئی پاکستانی صارفین نے حکمتیار کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیا۔ بعض صارفین نے افغان طالبان حکومت اور تحریک طالبان پاکستان سے متعلق پاکستان کے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ افغان قیادت پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی خدشات پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کو کس حد تک اہمیت دیتی ہے۔

کچھ پاکستانی صارفین نے ماضی میں پاکستان کی جانب سے افغان شہریوں کو دی جانے والی میزبانی کا حوالہ دیتے ہوئے حکمتیار کے مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے، جبکہ بعض تبصروں میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے افغان قیادت پر تنقید کی گئی۔

دوسری جانب بعض افغان اور پاکستانی صارفین نے افغان طلبہ کو دونوں ممالک کے سیاسی اور سفارتی تنازعات سے الگ رکھنے کی حمایت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ سیاسی اختلافات یا خارجہ پالیسی سے متعلق کشیدگی کا اثر طلبہ کی تعلیم پر نہیں پڑنا چاہیے۔

کچھ صارفین نے پاکستان کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو سیاسی تنازعات کا فریق نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ایک افغان صارف نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان کو اپنے تعلیمی اداروں اور دیگر شعبوں کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ افغان شہریوں کو تعلیم کے لیے بیرون ملک کم انحصار کرنا پڑے۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے پاکستان کی پالیسیوں کو افغان شہریوں پر دباؤ سے تعبیر کیا، جبکہ دیگر نے اسے پاکستان کے اپنے انتظامی اور تعلیمی معاملات سے متعلق پالیسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ عرصے میں سیکیورٹی صورتحال، سرحدی مسائل، افغان شہریوں کی واپسی اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ افغان طلبہ سے متعلق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا فیصلہ بھی اسی وسیع تر تناظر میں سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

حکمتیار کے بیان اور اس پر سامنے آنے والے ردعمل سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات سے متعلق معاملات پر دونوں ممالک کے عوام میں بھی مختلف اور متضاد آرا پائی جاتی ہیں، جبکہ افغان طلبہ کی تعلیم کا معاملہ سیاسی اور سفارتی اختلافات کے باعث مزید توجہ حاصل کر رہا ہے۔