فلک جاوید کی بازیابی کی درخواست لاہور ہائیکورٹ نے مسترد کردی

درخواست کی سماعت جسٹس شہباز رضوی نے فلک جاوید کے والد جاوید اقبال کی جانب سے دائر درخواست پر کی

September 10, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کو ناقابلِ ضرورت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

درخواست کی سماعت جسٹس شہباز رضوی نے فلک جاوید کے والد جاوید اقبال کی جانب سے دائر درخواست پر کی۔ درخواست میں ہوم سیکریٹری، آئی جی پنجاب سمیت دیگر حکام کو فریق بنایا گیا تھا۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فلک جاوید کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار کرلی گئی تھیں۔ وکیل کے مطابق ایک کیس میں ان کی ضمانت منظور ہونے کے باوجود اسی روز تھانہ ریس کورس نے 9 مئی سے متعلق مقدمے میں انہیں گرفتار کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فلک جاوید کو مبینہ طور پر سپلیمنٹری اسٹیٹمنٹ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جبکہ انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ حاصل کیا گیا۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فرخ خان لودھی نے عدالت کو بتایا کہ فلک جاوید اس وقت انسداد دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر جسمانی ریمانڈ پر ہیں اور انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ فلک جاوید کا ریمانڈ متعلقہ عدالت سے منظور ہوا ہے، اس لیے اس معاملے کو وہیں چیلنج کیا جائے۔ جسٹس شہباز رضوی نے درخواست گزار کے وکیل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔

لاہور ہائیکورٹ نے فلک جاوید کی بازیابی اور رہائی کے لیے دائر درخواست مسترد کردی۔