وزیراعظم شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026 کی منظوری دے دی

پالیسی میں پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو عالمی ویلیو چینز سے جوڑنے اور گاڑیوں کے پرزہ جات کی برآمدات بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

September 10, 2026 · اہم خبریں
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کا باضابطہ اعلان آئندہ ہفتے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے منظوری کے بعد متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق آٹو پالیسی سے متعلق کمیٹی کی سفارشات کو حتمی منظوری دے دی گئی ہے۔ پالیسی میں پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو عالمی ویلیو چینز سے جوڑنے اور گاڑیوں کے پرزہ جات کی برآمدات بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق آٹو پارٹس کی برآمدات میں اضافے کیلئے 5 بڑے اینکر مینوفیکچرنگ ادارے ملک میں لانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آٹو سیکٹر میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کے کلسٹرز بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

برآمدی آٹو پارٹس کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرنے، آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل قائم کرنے اور مقامی ویلیو ایڈیشن کو لازمی قرار دینے کی تجاویز بھی پالیسی کا حصہ ہیں۔

اس کے علاوہ آٹو انڈسٹری میں کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ کی اجازت دینے اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کی منظوری کے مراحل کو ڈیجیٹل بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

پالیسی میں الیکٹرک اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کیلئے بھی مراعات تجویز کی گئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق نئی انرجی گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)، کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) اور ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کیلئے قرض کی حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔