بنگلہ دیش میں خسرے کی وبا سے 1,000 سے زائد اموات، متاثرین کی تعداد 1.66 لاکھ سے تجاوز

خسرے کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ معمول کی ویکسینیشن میں پیدا ہونے والا خلا ہے ، ماہرین

September 10, 2026 · بام دنیا

فائل فوٹو

ڈھاکا:بنگلہ دیش میں خسرے کی وبا انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 9 ستمبر تک خسرے کے مشتبہ یا مصدقہ کیسز سے منسلک اموات 999 تک پہنچ گئی تھیں، جبکہ مشتبہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ 66 ہزار سے زیادہ تھی۔ بعد کی مقامی رپورٹس میں اموات کی تعداد ایک ہزار 2 تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے۔

وبا کا سب سے زیادہ اثر کم عمر بچوں پر پڑا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں پانچ سال سے کم عمر بچے تقریباً 80 فیصد کیسز میں شامل تھے۔

ماہرین کے مطابق خسرے کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ معمول کی ویکسینیشن میں پیدا ہونے والا خلا ہے۔ کووڈ-19 کے بعد ویکسینیشن متاثر ہوئی، جبکہ 2024 اور 2025 میں اہم حفاظتی مہمات میں خلل نے صورتحال مزید خراب کی۔

حکومت نے عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف اور گاوی کے تعاون سے ہنگامی ویکسینیشن مہم شروع کی، جس میں تقریباً 2 کروڑ بچوں تک ویکسین پہنچائی گئی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے آبادی میں تقریباً 95 فیصد ویکسین کوریج درکار ہوتی ہے۔