کوٹلی میں شرپسندوں کی فائرنگ سے زخمی رینجرزاہلکارشہید ہو گئے
قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر رعایت کے مستحق نہیں
فائل فوٹو
کوٹلی آزاد کشمیر: قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر مسلح شرپسندوں کی فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے رینجرز اہلکار سپاہی آصف حسین دوران علاج جام شہادت نوش کرگئے۔
حکام کے مطابق آمد و رفت میں شدید مشکلات اور غذائی قلت کے پیش نظر علاقہ مکینوں کے پرزور مطالبے پر بند راستے کھولنے کے لیے کلیئرنس آپریشن کیا گیا۔
واقعے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں بلوائیوں میں ملوث شرپسند عناصر کی تلاش اور گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق فسادی جتھے کا سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف جدید اسلحے اور بارودی مواد کا استعمال باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی گئی دہشت گردی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی بے مثال قربانیاں اس حقیقت کی غماز ہیں کہ ریاستی رٹ کا ہر حال میں قیام اور تحفظ ناگزیر ہے۔
ترجمان ڈی آئی جی پولیس ریجن میرپور نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے، فائرنگ اور ریاستی اہلکاروں کو نشانہ بنانا احتجاج، اختلاف رائے یا سیاسی سرگرمی کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ یہ کھلی قانون شکنی، ریاست کو چیلنج کرنے اور امن و امان تباہ کرنے کی منظم اور پرتشدد کوشش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر جو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں کی جانوں کو نشانہ بنائیں، وہ کسی رعایت یا ہمدردی کے مستحق نہیں۔
ریاستی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ریاست کی بالادستی، امن عامہ اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسے تمام دہشت گردانہ اور پرتشدد عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز اور سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔