قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی غیر معیاری موبائل سروس پر برہم،ٹیلی کام کمپنیاں طلب

پی ٹی اے حکام نے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس کےمسائل کا اعتراف کرلیا

September 10, 2026 · قومی

فائل فوٹو

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے غیر معیاری موبائل سروس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی سید امین الحق کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں غیر معیاری موبائل سروس اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے معاملے پر گفتگو ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک بھر میں غیر معیاری موبائل سروس کا مسئلہ نمٹانا ضروری ہے، موبائل سروس کا معیار بہتر بنانا بہت زیادہ ضروری ہے، تین مرتبہ کال کرنی پڑتی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام نے اعتراف کیا کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ کے معیار اور موبائل سروس کے مسائل ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ 6 ماہ میں ٹیلی کام کمپنیوں کو 4 شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ چند سال میں 48 شوکاز نوٹس، 22 وارننگ لیٹر جاری اور 68.9 ملین روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ اتھارٹی ٹیلی کام کمپنیوں پر زیادہ سے زیادہ 350 ملین روپے کا جرمانہ عائد کرسکتی ہے۔

رکن کمیٹی احمد عتیق نے کہا کہ ملک کے 70 فیصد علاقوں میں موبائل سروس کا مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ یوفون کی سروس بالکل ہی کام نہیں کرتی، جبکہ رکن کمیٹی شازیہ فرید نے کہا کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں موبائل سروس بالکل غیر معیاری ہے اور موبائل سروس سے کالز تک نہیں ہوسکتیں۔

سیکریٹری وزارت آئی ٹی ضرار ہاشم خان نے کہا کہ غیر معیاری موبائل سروس کی ایک وجہ آلات اور ساز و سامان کا معیاری نہ ہونا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کے الیکٹرک اور وزارت آئی ٹی کی ایک کمیٹی بنائی گئی تھی کہ لوڈشیڈنگ سے ٹاور کو کس طرح بچایا جاسکتا ہے۔

ضرار ہاشم خان نے کہا کہ لوڈشیڈنگ سے صرف بجلی نہیں جاتی بلکہ کاروبار بھی متاثر ہوتے ہیں۔

کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں جاز، زونگ اور یوفون کو طلب کرلیا۔