رحمان بابا گینگ ریپ کیس میں گرفتار چار ملزمان ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے
واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پیش آیا، ملزمان کو واردات کی جگہ لے جایا جا رہا تھا تاکہ مزید تفتیش اور جائے وقوعہ کی نشاندہی کرائی جاسکے۔
فائل فوٹو
پشاور: رحمان بابا کے علاقے میں پولیس انکاؤنٹر کے دوران گینگ ریپ کے مقدمے میں گرفتار چار ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پیش آیا، جب گرفتار ملزمان کو واردات کی جگہ لے جایا جا رہا تھا تاکہ ان سے مزید تفتیش اور جائے وقوعہ کی نشاندہی کرائی جاسکے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کو لے جانے والی ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔ جوابی کارروائی کے دوران گرفتار چاروں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے، جبکہ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق چاروں ملزمان کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت ان کے قبضے سے متاثرہ خواتین کے موبائل فونز اور مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق 9 ستمبر کو رحمان بابا تھانے کی حدود میں رنگ روڈ کے قریب ایک گھر میں مسلح افراد کے داخل ہونے اور وہاں موجود دو خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے واردات کے دوران گھر کے سربراہ، اس کی 11 سالہ بیٹی اور 8 سالہ بیٹے کو ایک کمرے میں باندھ دیا تھا، جبکہ دونوں خواتین کو دوسرے کمرے میں لے جایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش کے دوران 11 سالہ بچی سے متعلق بھی شکایت سامنے آنے پر چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی متعلقہ دفعہ مقدمے میں شامل کی گئی۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ فرانزک ادارے کو بھجوا دیے ہیں۔ حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور فائرنگ کرکے ملزمان کو نشانہ بنانے والے افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔