بادشاہ ہیرالڈ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی چل بسیں

بادشاہ ہیرالڈ گزشتہ ماہ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ناروے کے بادشاہ رہے

September 12, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اوسلو: ناروے کے شاہی خاندان کو ایک اور بڑے صدمے کا سامنا ہے، سابق بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی آخری رسومات کے صرف دو دن بعد ان کی بہن شہزادی آسٹرڈ 94 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔

شہزادی آسٹرڈ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ شاہی خاندان کی نمائندگی اور مختلف عوامی و فلاحی سرگرمیوں میں گزارا۔ موجودہ بادشاہ ہاکون ہشتم نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پوری زندگی ذمہ داری، فرض شناسی اور خلوص کے ساتھ شاہی خاندان کی خدمت کی۔

بادشاہ ہیرالڈ گزشتہ ماہ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ناروے کے بادشاہ رہے۔ ان کی آخری رسومات گزشتہ بدھ کو ادا کی گئیں، جس میں شہزادی آسٹرڈ نے بھی شرکت کی تھی۔ یہ تقریب ان کی زندگی کی آخری عوامی مصروفیت ثابت ہوئی۔

ناروے کے وزیراعظم جوناس گار ستورے کے مطابق شہزادی آسٹرڈ کی تدفین سرکاری اخراجات پر کی جائے گی، جبکہ ان کے احترام میں ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رکھے جائیں گے۔

شہزادی آسٹرڈ سابق بادشاہ اولاف پنجم کی آخری زندہ اولاد تھیں۔ ان کی والدہ ولی عہد شہزادی مارٹھا کے انتقال کے بعد محض 22 برس کی عمر میں انہوں نے ناروے کی خاتون اول کی اہم ذمہ داری سنبھالی تھی۔ بادشاہ اولاف نے دوسری شادی نہیں کی، جس کے باعث آسٹرڈ نے 1968 میں اپنے بھائی ہیرالڈ کی شادی تک یہ ذمہ داری نبھائی۔

بادشاہ ہاکون کے مطابق ضرورت مند اور کمزور افراد کی مدد کرنا شہزادی آسٹرڈ کی عوامی خدمات کا نمایاں حصہ تھا۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک فلاحی کاموں اور مختلف عوامی سرگرمیوں میں شاہی خاندان کی نمائندگی کی۔

شہزادی آسٹرڈ گزشتہ چند ماہ سے علیل تھیں اور رواں سال مارچ میں نمونیا کے باعث انہیں اسپتال میں بھی داخل کیا گیا تھا۔

شہزادی کی وفات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ناروے کا شاہی خاندان حالیہ عرصے کے دوران متعدد ذاتی اور عوامی تنازعات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان حالات کے باوجود آسٹرڈ کی طویل عوامی خدمات اور شاہی خاندان کیلئے ان کی خدمات کو ناروے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔