کے پی کے 6 ریجنز کے 26 اضلاع ہارڈ ایریا قرار

ان اضلاع میں تعینات وفاقی انتظامی اور پولیس افسران کو سکیورٹی رسک الاؤنس دیا جائے گا، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

September 12, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے 6 ریجنز میں شامل 26 اضلاع کو ہارڈ ایریا قرار دیتے ہوئے وہاں تعینات وفاقی انتظامی اور پولیس افسران کے لیے سکیورٹی رسک الاؤنس کی منظوری دے دی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو بھیجے گئے خط میں صوبے کے دہشت گردی سے متاثرہ 26 اضلاع کو ہارڈ ایریا قرار دینے سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔

ان اضلاع میں پشاور، خیبر، مردان، چارسدہ، مہمند، نوشہرہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر و لوئر، سوات، بونیر، شانگلہ، باجوڑ، دیر اپر و لوئر اور چترال اپر و لوئر شامل ہیں۔

خط کے مطابق ان اضلاع میں تعینات وفاقی انتظامی اور پولیس افسران کو سکیورٹی رسک الاؤنس دیا جائے گا، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

منظور شدہ الاؤنس افسر کی بنیادی تنخواہ کے 250 فیصد کے برابر ہوگا۔ افسر کے تبادلے کی صورت میں یہ الاؤنس فوری طور پر ختم ہوجائے گا، جبکہ اس کی ادائیگی وفاقی حکومت کرے گی اور اس پر انکم ٹیکس بھی عائد ہوگا۔

خط میں واضح کیا گیا ہے کہ معطلی، افسر کو عہدہ تفویض نہ ہونے، ملازمت میں شمولیت کے لیے دیے گئے اضافی وقت اور تربیت کے دوران سکیورٹی رسک الاؤنس نہیں دیا جائے گا۔ یہ الاؤنس پنشن اور گریجویٹی کے حساب میں بھی شامل نہیں ہوگا۔

وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق صوابی اور ہزارہ ڈویژن میں تعینات افسران اس سکیورٹی رسک الاؤنس کے اہل نہیں ہوں گے۔