سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کرپشن کیس میں بری
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پولیس ملازمین کی تنخواہوں سے مبینہ طور پر غیر قانونی کٹوتیاں کی گئیں۔
فائل فوٹو
کراچی کی اینٹی کرپشن عدالت نے پولیس ملازمین کی تنخواہوں میں مبینہ غیر قانونی کٹوتیوں اور کرپشن کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سمیت دیگر ملزمان کو بری کردیا۔
عدالت سے بری ہونے والے دیگر افراد میں ایس ایس پی تنویر احمد طاہر اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی اصغر کلہوڑو شامل ہیں۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ پہلے قومی احتساب بیورو میں زیر سماعت تھا، جسے بعد ازاں اینٹی کرپشن حکام کو منتقل کردیا گیا۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پولیس ملازمین کی تنخواہوں سے مبینہ طور پر غیر قانونی کٹوتیاں کی گئیں۔
پراسیکیوشن کا مؤقف تھا کہ مبینہ کٹوتیوں میں اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کے دفتر کی ملی بھگت بھی شامل تھی اور اس عمل کے ذریعے کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں کی گئیں۔
ملزمان پر اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، سرکاری فنڈز میں خورد برد اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
تاہم اینٹی کرپشن عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سمیت تمام نامزد ملزمان کو بری کردیا۔