پہلگام واقعے پر مودی حکومت کے خلاف بھارتی صحافی کے اہم انکشافات

پہلگام واقعے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا اور بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے تھے

September 12, 2026 · اہم خبریں
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارتی حکومت کے مؤقف اور اس کے پس پردہ مبینہ سیاسی مفادات پر بھارت کے اندر سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بھارتی صحافی اجے شکلا نے اس معاملے سے متعلق مختلف دعوے اور اعتراضات سامنے رکھے ہیں۔

اجے شکلا کے مطابق بعض بھارتی سیاسی رہنما بھی ماضی میں پہلگام واقعے سے متعلق حکومت کے کردار اور اس کے بعد اختیار کیے گئے مؤقف پر سوالات اٹھا چکے ہیں۔ ان کے مطابق واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کی گئی۔

بھارتی صحافی نے مودی حکومت پر سیاسی مقاصد کے لیے واقعے کو استعمال کرنے کے الزامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق بعض بھارتی سیاستدانوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے حلقوں کی جانب سے بھی واقعے کی تحقیقات اور اس کے پس منظر پر سوالات سامنے آتے رہے ہیں۔

اس سے قبل بھارتی سکیورٹی امور کے ماہر ڈاکٹر اجے ساہنی کی جانب سے بھی پہلگام واقعے کو ایک منصوبہ قرار دینے سے متعلق دعویٰ سامنے آیا تھا، جبکہ سابق گورنر مقبوضہ جموں و کشمیر ستیا پال ملک نے بھی مودی حکومت پر سخت تنقید کی تھی۔

بھارتی سابق رکن اسمبلی وجے تیواری سمیت بعض دیگر شخصیات نے بھی پہلگام واقعے کے حوالے سے حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھائے۔ بھارتی گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور نے بھی بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق سوالات کیے۔

پہلگام واقعے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا اور بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم بھارتی سیاستدانوں، صحافیوں اور دیگر ناقدین کے بعض بیانات میں حکومت کے مؤقف اور واقعے کے پس منظر پر مختلف سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔