کراچی میں 15 سالہ روشم قتل کیس، لاش کے ہمراہ دھرنا پانچویں روز بھی جاری
جب تک روشم کے قتل میں ملوث افراد گرفتار نہیں ہوتے، لاش کے ہمراہ احتجاج جاری رکھا جائے گا۔مقتول کے اہلخانہ
فوٹو سوشل میڈیا فیس بک
کراچی: منگھوپیر میں مبینہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 15 سالہ روشم ولد رویداد کے اہلخانہ کا منگھوپیر تھانے کے باہر لاش کے ہمراہ احتجاج پانچویں روز بھی جاری ہے۔
مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ روشم کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری تک دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق ہفتے کی رات ایڈیشنل آئی جی آزاد خان تنولی دیگر اعلیٰ افسران کے ہمراہ مظاہرین سے مذاکرات کے لیے منگھوپیر تھانے پہنچے۔ ڈی آئی جی عرفان بلوچ اور ایس ایس پی طارق الٰہی مستوئی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
پولیس حکام نے مقتول کے والد رویداد حسین سے ملاقات کی اور واقعے پر تعزیت کا اظہار کیا۔ ملاقات میں روشم کے قتل کے مقدمے کی تفتیش، اب تک ہونے والی پیش رفت اور ملزمان کی گرفتاری سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔
ایڈیشنل آئی جی نے متعلقہ پولیس افسران کو ہدایت کی کہ روشم کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔
تاہم پولیس حکام کی جانب سے مذاکرات اور یقین دہانیوں کے باوجود مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا۔ پولیس کے مطابق فریقین کے درمیان کسی حتمی نتیجے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
مقتول کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ جب تک روشم کے قتل میں ملوث افراد گرفتار نہیں ہوتے، لاش کے ہمراہ احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
پولیس نے مظاہرین سے پرامن رہنے اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کیس میں پیش رفت کے لیے اقدامات جاری ہیں۔