بغیر ٹرائل عمر خالد کی قید کو چھ سال مکمل،بھارتی نظام انصاف پر سوالات اٹھنے لگے

عمر خالد کو دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

September 13, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

نئی دہلی: بھارتی سیاسی کارکن عمر خالد کی گرفتاری کو چھ سال مکمل ہوگئے، تاہم ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی میں تاخیر کے باعث وہ اب بھی زیرِ حراست ہیں۔

عمر خالد کو دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ طویل عرصے سے ٹرائل شروع نہ ہونے کے باعث ان کے بنیادی قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

بھارتی جریدے دی کوئنٹ کے مطابق عمر خالد کی طویل قید کے دوران انہیں ذہنی دباؤ اور گھٹن سمیت مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے اہل خانہ بھی مسلسل ان کی رہائی اور مقدمے کی جلد سماعت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

عمر خالد کے والد نے بھارتی نظام انصاف کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیویارک کے میئر زہران ممدانی بھی عمر خالد کو خط لکھ کر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کر چکے ہیں، جبکہ سابق بھارتی جج دیپک گپتا نے بھی عدالتی کارروائی میں تاخیر پر سوالات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب عمر خالد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب بعض سیاسی رہنماؤں کو دہلی فسادات سے متعلق اشتعال انگیز بیانات کے باوجود آزادی حاصل ہے، جبکہ عمر خالد طویل عرصے سے جیل میں ہیں۔