لاہور ہائیکورٹ نےقتل کے مقدمات میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی قانونی حیثیت پر اہم سوالات اٹھادیئے

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور ڈی جی فرانزک سائنس ایجنسی طلب۔ ویڈیو شواہد کی تشریح کے لیے معاونین مقرر

September 14, 2026 · قومی
فائل فوٹوز

فائل فوٹوز

لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمات میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو شواہد کی قانونی حیثیت اور ان کے مؤثر استعمال سے متعلق اہم قانونی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

عدالت نے عمر قید کے مجرم راجہ شاہد کی جانب سے دائر اپیل پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو نوٹس جاری کر کے طلب کر لیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق عدالت نے خصوصی طور پر یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ اگر سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کے چہرے واضح نہ ہوں، تو کیا محض اس فوٹیج کی بنیاد پر ملزم کی شناخت کر کے اسے سزا دینا قانونی طور پر درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس کے علاوہ عدالت نے پرائیویٹ طور پر حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کے قابلِ قبول ہونے، تفتیش کے دوران سامنے آنے والے نقائص اور اس کی روشنی میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات کو مسترد کیے جانے کے امکانات سے متعلق بھی وضاحت طلب کی ہے۔

سماعت کے دوران قتل کیس سے متعلقہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو کھلی عدالت میں چلا کر اس کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ عدالت نے ملزمان کی شناخت کے لیے فوٹیج میں پکسل انہانسمنٹ اور فرانزک بنیادوں پر دوبارہ تجزیے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

عدالتی کارروائی میں ویڈیو اور الیکٹرانک شہادت سے متعلق پیچیدہ قانونی نکات پر معاونت فراہم کرنے کے لیے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ شیبا قیصر اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمد نوید عمر بھٹی کو معاونِ عدالت مقرر کیا گیا ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب چوہدری عرفان صادق تارڑ اور ڈی جی پی ایف ایس اے کو آئندہ ہفتے ہونے والی سماعت میں ان اہم قانونی و فرانزک امور پر تفصیلی معاونت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔