پاکستان میں مریضوں کو عالمی معیار سے دگنی سے زائد ادویات تجویز کرنے کا انکشاف

تحقیق کے مطابق ہر چار میں سے صرف ایک دوا جینیرک نام سے لکھی جاتی ہے، جو مہنگے برانڈز اور پولی فارمیسی کے مسائل کا سبب بن رہی ہے۔

September 14, 2026 · اہم خبریں

Assortment of fruits and vegetables

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں مریضوں کو عالمی ادارہ صحت (WHO) کی تجویز کردہ حد سے دگنی سے زائد ادویات ایک ہی نسخے میں دی جا رہی ہیں۔ طبی ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے یہ صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔

تحقیق کے اہم نکات کے مطابق، پاکستان میں صحت کے شعبے میں ادویات کے استعمال کے حوالے سے کئی سنگین مسائل سامنے آئے ہیں جو مریضوں کی صحت اور مالی حالت دونوں پر شدید منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے طے کردہ اصولوں کے مطابق ایک طبی نسخے میں ادویات کی تعداد کم سے کم ہونی چاہیے تاکہ مریض کو غیر ضروری کیمیکلز اور مضر اثرات سے بچایا جا سکے، تاہم ملک میں اس کے برعکس صورتحال پائی جاتی ہے۔

تحقیق کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ہی نسخے میں اوسطاً چار یا اس سے زائد ادویات تجویز کی جا رہی ہیں، جو ڈبلیو ایچ او کی تجویز کردہ حد سے دگنی سے بھی زیادہ ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ادویات کے ایک ساتھ استعمال سے مریضوں میں ‘پولی فارمیسی’ (Polypharmacy) کے مسائل بڑھ جاتے ہیں اور ادویات کے باہم منفی ردعمل کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

مزید برآں، تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نسخوں میں صرف 25 فیصد ادویات ان کے جینیرک یعنی اصل سائنسی ناموں سے لکھی جاتی ہیں، جبکہ باقی 75 فیصد ادویات مہنگے برانڈڈ ناموں کے ساتھ تجویز کی جاتی ہیں۔ جینیرک ناموں کے اس فقدان اور برانڈڈ ادویات کے کثرت سے استعمال کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں پر بھاری مالی بوجھ پڑتا ہے، جو پہلے ہی علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ تحقیقات صحت عامہ کے پالیسی سازوں کے لیے ایک انتباہ ہیں کہ وہ طبی نسخوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔