حکومت ریلیف پیکج نہیں، پٹرولیم لیوی ختم کریں،حافظ نعیم

جماعت اسلامی 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کرے گی جبکہ مختلف شہروں میں جاری دھرنے بھی جاری رہیں گے۔

September 15, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے نام پر دکھاوا کرنے کے بجائے پٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی بوجھ کم کیا جائے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور پالیسی ریٹ میں کمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کرے گی جبکہ مختلف شہروں میں جاری دھرنے بھی جاری رہیں گے۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق گزشتہ سال حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1567 ارب روپے جمع کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت مہنگائی میں کمی کے دعوے کرتی ہے، دوسری جانب بلند شرح سود برقرار رکھی جا رہی ہے، جس سے ملکی معیشت پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت فی لیٹر پٹرول پر بھاری رقم لیوی کی صورت میں وصول کر رہی ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی حکومت کو پالیسی ریٹ میں 3 فیصد کمی کے ممکنہ فوائد سے آگاہ کرچکی ہے اور پٹرولیم لیوی کم کرنے کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم کی قیمتیں بڑھنے کی صورت میں حکومت کو اپنے محصولات کم کرنے چاہئیں تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کے 25 ارب روپے کے ریلیف پیکج پر بھی تنقید کی اور کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے انہیں پٹرول پمپس پر قطاروں میں کھڑا کرنا مناسب طریقہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلیف فراہم کرنے کے عمل میں متعلقہ فریقوں سے بھی مناسب مشاورت نہیں کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ریلیف پیکج کی تشہیر پر بھی کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں۔ حکومت کا بنیادی فرض عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنا ہے، اس لیے نمائشی پیکجز کے بجائے پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور ریلیف دینے کا موجودہ طریقہ کار تبدیل کیا جائے۔