امریکی عدالت نے غیرملکی طلبا اور صحافیوں کے ویزے محدود کرنے کا قانون معطل کردیا

بوسٹن عدالت کا حکم امتناع، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا مؤقف کمزور قرار، 2 اکتوبر کو مزید سماعت

September 16, 2026 · اہم خبریں
امریکی عدالت کی جانب سے غیرملکی طلبا اور صحافیوں کے ویزے محدود کرنے کا قانون معطل کیے جانے کے بعد پرانی پالیسی بحال رہے گی۔

امریکی عدالت کی جانب سے غیرملکی طلبا اور صحافیوں کے ویزے محدود کرنے کا قانون معطل کیے جانے کے بعد پرانی پالیسی بحال رہے گی۔

بوسٹن کی ایک وفاقی عدالت نے امریکی انتظامیہ کے اس متنازعہ حکم کو نافذ ہونے سے روک دیا ہے جس کے تحت غیرملکی طلبا اور صحافیوں کے امریکا میں قیام کی مدت کو محدود کیا جانا تھا۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ حکم نامہ نئے قانون کے نفاذ سے محض 1 روز قبل سامنے آیا، جو وزارتِ داخلہ کی جانب سے نافذ العمل ہونا تھا۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی اس نئی پالیسی کے خلاف غیرملکی طلبا، اساتذہ، جامعات اور صحافیوں کی نمائندگی کرنے والی یونینوں کے اتحاد نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ڈسٹرکٹ جج ایس ڈینس سیلر نے کیس کی سماعت کے بعد نئی پالیسی کے نفاذ کے خلاف ابتدائی حکم امتناع جاری کرتے ہوئے قواعد پر عمل درآمد روک دیا۔ عدالت نے اس معاملے پر مزید سماعت 2 اکتوبر کو مقرر کی ہے۔

عدالتی دستاویزات اور رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مجوزہ قواعد کے تحت اسٹوڈینٹ ویزا رکھنے والے غیرملکی شہریوں کو زیادہ سے زیادہ 4 سال تک امریکا میں رہنے کی اجازت ملنی تھی، جب کہ اس سے پہلے پرانے نظام میں غیرملکی طلبا کو عموماً اپنی تعلیم کی مدت مکمل ہونے تک امریکا میں قیام کی اجازت ہوتی تھی۔ اسی طرح نئے قواعد کے تحت غیرملکی صحافیوں کو امریکا میں زیادہ سے زیادہ 240 دن یعنی تقریباً 8 ماہ قیام کی اجازت ہونی تھی، جبکہ اس سے قبل غیرملکی صحافیوں کو کم از کم 5 سال تک قیام کی اجازت دی جاتی تھی۔

جج ایس ڈینس سیلر نے فیصلے کے موقع پر محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے اس مؤقف کو انتہائی کمزور اور ناکافی قرار دیا جس میں قومی سلامتی اور ویزا فراڈ کی روک تھام کو اس پالیسی کی بنیاد بنایا گیا تھا۔ جج نے نشاندہی کی کہ حکومتی اداروں نے اس پالیسی کے ممکنہ منفی اثرات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور نہ ہی اس کے متبادل کم نقصان دہ راستوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون سے امریکی نظام تعلیم اور معیشت کو تباہ کن نقصان پہنچ سکتا ہے اور ہارورڈ اور ایم آئی ٹی جیسی بڑی جامعات کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔