ایران جنگ: امریکا کے 38 ارب ڈالر خرچ، میزائل ذخیرہ مکمل ہونے میں 5 سال لگنے کا انکشاف
دفاعی بجٹ پر بڑا بوجھ، ماہانہ 3 ارب ڈالر اخراجات کا تخمینہ، ایوان نمائندگان کی قرارداد منظور
امریکی کانگریس بجٹ آفس اور دفاعی اخراجات سے متعلق فائل فوٹو
امریکی کانگریس کے غیر جانب دار بجٹ دفتر (CBO) اور نیویارک ٹائمز کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ پر امریکا کے اب تک 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں جبکہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں ماہانہ مزید 2 سے 3 ارب ڈالر تک کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس طویل تنازع نے امریکی دفاعی بجٹ اور ہتھیاروں کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکی فوج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کا تیزی سے استعمال ہوا ہے، جس کے باعث ملک کے طویل فاصلے کے میزائلوں اور انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار سے استعمال ہونے والے ان دفاعی ذخائر کو دوبارہ مکمل کرنے میں کم از کم 5 سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے امریکا کی اس صلاحیت پر بھی سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں کہ وہ کسی دوسرے ممکنہ فوجی تنازع کی صورت میں کتنی تیزی سے جوابی کارروائی کر سکے گا۔
کانگریشنل بجٹ آفس کے تخمینے کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران امریکا میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً 0.5 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق 38 ارب ڈالر کا یہ تخمینہ مکمل جنگی لاگت کی عکاسی نہیں کرتا کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں، خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے نقصانات اور قرضوں پر عائد ہونے والے سود کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔
دوسری جانب امریکی سیاسی منظرنامے میں بھی بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ کے حوالے سے صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور کرلی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس قرارداد کی منظوری میں ڈیموکریٹس کے ساتھ بعض ریپبلکن ارکان نے بھی حمایت کی ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ کے لیے سینیٹ کے مرحلے سمیت مزید آئینی اور قانونی مراحل درکار ہوں گے۔ بڑھتے ہوئے مالی بوجھ اور دفاعی چیلنجز کے باعث انتظامیہ پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔