ترکیہ کے پہلے قمری خلائی جہاز کی تیاری اور جوڑنے کا عمل مکمل

خلائی جہاز کو چاند کے گرد تقریباً 100 کلومیٹر بلند قطبی مدار تک پہنچنے میں لگ بھگ دو ماہ کا وقت درکار ہوگا۔

September 16, 2026 · بام دنیا
ترکیہ کے پہلے قمری خلائی جہاز کی تیاری اور جوڑنے کا عمل مکمل

ترکیہ کے پہلے قمری خلائی جہاز کی تیاری اور جوڑنے کا عمل مکمل

ترکیہ نے اپنے پہلے قمری مشن کے لیے تیار کیے جانے والے خلائی جہاز کی تیاری اور اسمبلی کا مرحلہ مکمل کرلیا ہے، جسے 2027 کے اوائل میں امریکا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔

ترکیہ کے وزیر صنعت و ٹیکنالوجی مہمت فاتح کاشر کے مطابق خلائی جہاز کو چاند کے گرد تقریباً 100 کلومیٹر بلند قطبی مدار تک پہنچنے میں لگ بھگ دو ماہ کا وقت درکار ہوگا۔

منصوبے کے مطابق خلائی جہاز چاند کے مدار میں کم از کم تین ماہ تک سائنسی سرگرمیاں انجام دے گا، جبکہ اس مشن کی مدت کو ڈیڑھ سال تک بڑھانے کا امکان بھی موجود ہے۔

خلائی جہاز میں مقامی طور پر تیار کردہ سائنسی آلات نصب کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے شمسی ہواؤں، پانی کی تشکیل، مقناطیسی میدان اور چاند کی سطح پر موجود تابکاری کا جائزہ لیا جائے گا۔

ترک وزیر کے مطابق خلائی جہاز میں ماضی کے امیج اور ترک سیٹ 6 اے سیٹلائٹ منصوبوں کے لیے تیار کیے گئے مواصلاتی اور بجلی کے نظام بھی استعمال کیے گئے ہیں، جبکہ خلائی جہاز میں مقامی پیداوار کا حصہ تقریباً 80 فیصد ہے۔

لانچ سے قبل خلائی جہاز کے مزید تجربات کیے جائیں گے تاکہ اس کی لانچ کے دوران اور خلائی ماحول میں سخت حالات برداشت کرنے کی صلاحیت کی جانچ کی جاسکے۔ اس کے بعد اسے حتمی معائنے کے لیے ترک سائنسی و تکنیکی تحقیقاتی ادارے کی نئی کلین روم سہولت میں منتقل کیا جائے گا۔

ترکیہ کے مطابق مشن میں مقامی طور پر تیار کردہ ہائبرڈ پروپلشن سسٹم استعمال کیا جائے گا، جو خلائی جہاز کو مدار تک پہنچانے اور بعد ازاں چاند کی سطح کی جانب کنٹرول شدہ رفتار سے اتارنے میں مدد دے گا۔

ترک وزیر نے بتایا کہ اب تک دنیا کے صرف 8 ممالک قمری مشن مکمل کرچکے ہیں اور ترکیہ کا پروگرام کامیابی سے مکمل ہونے کی صورت میں وہ چاند پر مشن بھیجنے والا دنیا کا نواں ملک بن جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکیہ نے حال ہی میں آرٹیمس معاہدوں میں شمولیت اختیار کی ہے، جن کا مقصد چاند اور بیرونی خلائی حدود کی پرامن تلاش میں عالمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

دوسری جانب ترکیہ نے ترک سیٹ 7 اے مواصلاتی سیٹلائٹ کی تیاری بھی شروع کردی ہے، جبکہ امیج 2 اور امیج 3 زمینی مشاہداتی سیٹلائٹس کے ڈیزائن پر بھی کام جاری ہے۔