عمران خان کی اسپتال منتقلی کیس، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کرلیا
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو طلب کرکے وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق معاونت طلب کرلی۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے ایک روز قبل عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ وفاقی آئینی عدالت اس مقدمے کی سماعت کس اختیار کے تحت کرسکتی ہے اور کیا سپریم کورٹ کے زیر سماعت کیس کا ریکارڈ طلب کرنے کے بعد اسے سماعت کے لیے مقرر کرنے کے کیا قانونی نتائج ہوں گے۔
عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ 18 اگست کے حکم کے تحت طلب کیے گئے سرکاری افسران کیوں پیش نہیں ہوئے اور سپریم کورٹ کے دیگر احکامات پر کس حد تک عمل درآمد ہوا۔ جسٹس شاہد وحید نے ملاقاتوں اور عمران خان کی اپنے بچوں سے بات چیت سے متعلق عدالتی ہدایات پر عمل درآمد کے بارے میں بھی سوالات کیے۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق آئینی دفعات پر عدالت کی معاونت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ آئین کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو بعض مقدمات کا ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ عدالت وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار اور آئینی منشا کو سمجھنا چاہتی ہے اور عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سوالات کا مقصد صرف قانونی صورتحال کو سمجھنا ہے۔
عدالت نے اڈیالا جیل انتظامیہ کے عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق معاملے پر بھی سوالات کیے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کے قانونی نتائج کا جائزہ لینا ہوگا، تاہم اٹارنی جنرل نے جیل حکام کو ایک موقع دینے کی استدعا کی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے بھی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا۔
بعد ازاں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کی جائے۔ سپریم کورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی