مکہ مکرمہ میں خطرے کے سائرن بجنے کے بعد خطرہ ٹلنے کا اعلان
ڈرون کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
مکہ مکرمہ میں خطرے کے سائرن بجنے کے بعد خطرہ ٹلنے کا اعلان
ریاض: سعودی شہری دفاع نے مکہ مکرمہ میں پیشگی انتباہی سائرن بجائے جانے کے بعد شہریوں کو آگاہ کیا ہے کہ شہر کو درپیش خطرہ ٹل گیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق مکہ مکرمہ میں سائرن اس وقت بجائے گئے جب سعودی فضائی دفاع نے مقدس شہر کی جانب آنے والے ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔
سعودی عرب کے زیرِ قیادت فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا کہ ڈرون کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
ترجمان کے مطابق مکہ مکرمہ کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدس شہر کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری کوشش ہے، اس سے قبل 27 جولائی 2017 کو بیلسٹک میزائل کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی تھی۔
سعودی حکام نے ڈرون حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی سنگین کارروائی قرار دیا ہے۔
اس سے قبل طائف اور جدہ کی گورنریوں میں بھی پیشگی انتباہی سائرن بجائے گئے تھے، بعد ازاں وہاں بھی خطرہ ٹل جانے کا اعلان کیا گیا۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کو حوثی حملوں کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔