روس اور ایران پر نئی امریکی پابندیوں کا بل وائٹ ہاؤس پہنچ گیا
ایوان نمائندگان میں بل کے حق میں 262 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 159 ارکان نے اس کی مخالفت کی
روس اور ایران پر نئی امریکی پابندیوں کا بل وائٹ ہاؤس پہنچ گیا
واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے روس اور ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے سے متعلق اہم قانون سازی کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد بل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گیا۔
ایوان نمائندگان میں بل کے حق میں 262 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 159 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس سے قبل امریکی سینیٹ بھی گزشتہ ماہ یہ بل 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور کر چکی ہے۔
’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026‘ کے تحت روس کے خلاف بنیادی اور ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ممکنہ پابندیوں کی زد میں روسی حکام، امیر شخصیات، ان کے اہلخانہ، بینکوں اور مالیاتی اداروں کے علاوہ یوکرین جنگ میں روس کی مدد کرنے والے غیر ملکی افراد اور ادارے بھی آسکتے ہیں۔
مجوزہ قانون میں روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں کے ساتھ پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے ’شیڈو فلیٹ‘ ٹینکرز کے خلاف کارروائی کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
بل کے تحت امریکی صدر کو ایسے ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار بھی مل سکتا ہے جو بڑی مقدار میں روسی تیل یا گیس خریدتے ہیں یا روس کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان محصولات کی شرح 100 فیصد تک ہوسکتی ہے۔
بل کے حامی ارکان کا کہنا ہے کہ قانون سازی کا مقصد روس کی جنگی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل محدود کرنا اور یوکرین کے معاملے پر ماسکو پر دباؤ بڑھانا ہے۔ دوسری جانب بعض ڈیموکریٹ ارکان نے صدر کو دیے جانے والے وسیع اختیارات اور امریکی اتحادی ممالک پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد اب بل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کا منتظر ہے۔ صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کرلے گا۔