غزہ کے شہید بچوں کے ناموں سے سجا 100 میٹر طویل کفن نیویارک پہنچ گیا

’غزہ چلڈرنز شراوڈ‘ نامی اس منصوبے کی تیاری میں ڈاکٹرز اگینسٹ جینوسائیڈ، یو ایس اے پریٹس اگینسٹ جینوسائیڈ، جسٹس فار آل اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔

September 17, 2026 · بام دنیا
غزہ کے شہید بچوں کے ناموں سے سجا 100 میٹر طویل کفن نیویارک پہنچ گیا

غزہ کے شہید بچوں کے ناموں سے سجا 100 میٹر طویل کفن نیویارک پہنچ گیا

نیویارک: غزہ میں جاں بحق ہونے والے 20 ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کے ناموں پر مشتمل تقریباً 100 میٹر طویل یادگاری کفن نیویارک کے اقوام متحدہ چرچ سینٹر میں نمائش کے لیے پیش کردیا گیا۔

منتظمین کے مطابق ’تعداد نہیں، نام‘ کے عنوان سے تیار کیے گئے اس منصوبے کا مقصد غزہ میں جان کی بازی ہارنے والے بچوں کو محض اعداد و شمار کے بجائے ان کے نام اور انفرادی شناخت کے ساتھ یاد رکھنا ہے۔ منتظمین نے اس موقع پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات و احتساب کا مطالبہ بھی کیا۔

’غزہ چلڈرنز شراوڈ‘ نامی اس منصوبے کی تیاری میں ڈاکٹرز اگینسٹ جینوسائیڈ، یو ایس اے پریٹس اگینسٹ جینوسائیڈ، جسٹس فار آل اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔

نمائش کے موقع پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب میں قرآن پاک کی تلاوت کے علاوہ غزہ کے بچوں کی یاد میں بین المذاہب اجتماع بھی منعقد کیا گیا۔

منتظمین کے مطابق اس منصوبے کا خیال اٹلی میں تیار کیے گئے ایک یادگاری کفن سے لیا گیا، جس میں غزہ میں اپنے بچوں کی شناخت برقرار رکھنے کے لیے بعض والدین کی جانب سے بچوں کے جسم پر نام لکھنے کے واقعے کو یادگار کی شکل دی گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ کفن پر درج ہر نام ایک بچے کی زندگی، اس کی شناخت اور اس کے خاندان کی یاد کی نمائندگی کرتا ہے، تاکہ جنگ میں جاں بحق ہونے والے بچوں کو محض اعداد میں شمار نہ کیا جائے۔

یادگاری کفن نے یکم ستمبر کو فلاڈیلفیا سٹی ہال سے سفر کا آغاز کیا تھا اور 16 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسے نیویارک میں پیش کیا گیا۔

منصوبے کے تحت یہ یادگاری کفن آئندہ مختلف شہروں میں لے جایا جائے گا۔ منتظمین کے مطابق ایک سال پر محیط عالمی مہم کے دوران ہر ماہ ایک نئے شہر میں اس کی نمائش کے ساتھ دعائیہ اور آگاہی پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران بچوں سمیت بڑی تعداد میں فلسطینی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے بھی ملبے سے انسانی باقیات ملنے پر ممکنہ جنگی جرائم کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے رسائی دینے پر زور دیا ہے۔