طالبان نے امریکہ سے سفارتی تعلقات کیلئے معدنیات کی پیشکش کردی
واشنگٹن سے ماضی کے نقصانات کا ازالہ کرنے کا مطالبہ- خواتین کی تعلیم پر موقف بدلنے سے انکار
طالبان نے امریکہ سے سفارتی تعلقات کیلئے معدنیات کی پیشکش کردی
افغان حکومت نے امریکہ کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کو تعلقات کی بحالی سے قبل افغانستان میں بیس سالہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ورثے کا ازالہ کرنا ہوگا۔ یہ بات افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہی۔
ترجمان کے مطابق افغانستان میں غیر ملکی فوجی موجودگی کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام موجودہ حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے، جس کے بعد ملک میں تجارت، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ترجمان نے دستیاب اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ افغان برآمدات سال 2020 کے 750 ملین ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ فیکٹریوں کی تعداد 1,500 سے بڑھ کر 6,000 ہو گئی ہے۔
معاشی مشکلات اور عوامی توقعات کے حوالے سے ترجمان نے تسلیم کیا کہ ملک میں بے روزگاری سمیت چند ایسے شعبے موجود ہیں جہاں اب بھی عوامی توقعات کے مطابق کام کرنے کی ضرورت ہے۔ روس کے علاوہ کسی بھی بڑے ملک کی طرف سے باضابطہ سفارت کاری کی عدم موجودگی پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ باضابطہ شناخت کا عملی طور پر کیا مطلب رہ جاتا ہے جبکہ کابل پہلے ہی کئی ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطے میں ہے۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ افغانستان دنیا کے ہر ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات کا خواہاں ہے جس میں امریکہ بھی شامل ہے۔ کابل میں امریکی سفارت خانے کی دوبارہ بحالی اور معدنیات و گیس کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے 2021 میں انخلا کے وقت چھوڑے گئے امریکی فوجی ساز و سامان کی واپسی کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ساز و سامان اب افغان ریاست کا اثاثہ ہے۔
خواتین کی تعلیم اور حقوق کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر عائد پابندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ متبادل ذرائع جیسے کہ گھریلو تعلیم اور دینی مدارس کا نظام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان جنگ کے تلخ تجربات سے یہ سیکھ چکا ہے کہ تنازعات کا حل صرف اور صرف سفارت کاری میں ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔