امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کی نئی تصاویرجاری
تصاویر میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایک تباہ شدہ ریڈار طیارہ جبکہ کویت کے کیمپ بیوہرنگ میں تباہ شدہ رہائشی ٹریلرز اور دیگر ڈھانچے دکھائی دیتے ہیں۔
امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کی نئی تصاویرجاری
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی حملوں کے بعد ہونے والے نقصانات کی نئی تصاویر سامنے آگئی ہیں، جن میں سعودی عرب اور کویت میں موجود امریکی اڈوں پر عمارتوں، رہائشی سہولیات، فوجی سازوسامان اور دیگر تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی جھلک دکھائی گئی ہے۔
بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس کو موصول ہونے والی تصاویر مبینہ طور پر موجودہ امریکی فوجی اہلکاروں نے فراہم کی ہیں۔ تصاویر میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایک تباہ شدہ ریڈار طیارہ جبکہ کویت کے کیمپ بیوہرنگ میں تباہ شدہ رہائشی ٹریلرز اور دیگر ڈھانچے دکھائی دیتے ہیں۔
سی بی ایس سے گفتگو کرنے والے ایک امریکی فوجی اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ امریکی عوام کو فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ تاہم ان تصاویر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے نگران ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی سینکڑوں عمارتیں اور دیگر ڈھانچے تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے ایرانی حملوں سے متاثر ہوئے۔ صرف فوجی سازوسامان کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 3.7 ارب ڈالر تک لگایا گیا ہے، جبکہ 29 جون تک جنگ پر امریکی اخراجات 33.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کی بات سامنے آئی ہے۔
سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس سے منسوب ایک تصویر میں بوئنگ ای-3 سینٹری ریڈار طیارہ بری طرح تباہ شدہ حالت میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ طیارے طویل فاصلے سے فضائی خطرات اور ممکنہ اہداف کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
امریکی کانگریشنل بجٹ آفس کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والا ای-3 طیارہ اب تیار نہیں کیا جاتا اور مستقبل میں اس کی جگہ جدید ای-7 طیارہ حاصل کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں ایک ای-3 طیارے کی قیمت تقریباً 50 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے۔
کویت کے کیمپ بیوہرنگ سے متعلق تصاویر میں رہائشی ٹریلرز، ایک بڑے خیمہ نما ڈھانچے اور دیگر تنصیبات کو تباہ شدہ حالت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تصاویر کس مخصوص حملے کے فوراً بعد بنائی گئی تھیں۔
کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق جنگ کے دوران طیاروں، ڈرونز اور دفاعی نظام سمیت دیگر فوجی وسائل کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 1.9 ارب ڈالر ہے۔ ادارے نے ساتھ ہی واضح کیا کہ اس تخمینے میں غیر یقینی موجود ہے کیونکہ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے مطلوبہ معلومات مکمل طور پر فراہم نہیں کی گئیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں امریکی فضائیہ کے متعدد طیارے تباہ یا متاثر ہوئے، جن میں سعودی عرب میں زمین پر موجود پانچ ایندھن بردار طیارے بھی شامل ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے ایک ماہر اور امریکی قومی سلامتی کے سابق اہلکار برائن کاتولس نے تصاویر اور نقصانات کو امریکی فوجی تنصیبات کے دفاع سے متعلق سوالات کے تناظر میں دیکھا ہے۔ ان کے مطابق ان واقعات سے امریکی فوجی تیاری اور خطے میں موجود دفاعی نظام سے متعلق اہم سوالات سامنے آتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکہ کو ایشیا سے بعض فوجی وسائل مشرق وسطیٰ منتقل کرنا پڑے، جس کے نتیجے میں خطے سے باہر امریکی فوجی ترجیحات بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔ تاہم چین اور روس کی ایرانی ہدف بندی میں مبینہ معاونت سے متعلق یہ دعوے آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر سامنے نہیں آئے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ میں سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
جنگ کے دوران ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں، اسرائیل اور امریکی اتحادیوں کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔
منگل کی شب امریکی ایوان نمائندگان نے ایک مرتبہ پھر ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے سے متعلق اقدام کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اس اقدام کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس اقدام کو بعض ریپبلکن ارکان کی حمایت بھی حاصل ہوئی، تاہم اس کی حتمی منظوری کا معاملہ ابھی واضح نہیں کیونکہ امریکی سینیٹ کی جانب سے اس پر کارروائی کا عندیہ سامنے نہیں آیا۔
اسی دوران سبکدوش ہونے والے ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے معاملے پر وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مواخذے کی کوشش شروع کرنے کا اعلان کیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے تاہم وزیر دفاع کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے بھی پیٹ ہیگستھ کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔