خراب نتائج والے اساتذہ کے خلاف نیا آرڈیننس لانے کا فیصلہ
طلبہ کے امتحانی نتائج کو اساتذہ کی کارکردگی سے منسلک کیا جائے گا اور ناقص نتائج کے ذمہ دار اساتذہ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خراب نتائج والے اساتذہ کے خلاف نیا آرڈیننس لانے کا فیصلہ
لاہور: پنجاب حکومت نے ناقص امتحانی نتائج دینے والے اساتذہ کے خلاف کارروائی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نیا آرڈیننس لانے پر غور شروع کردیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس میں محکمہ سکول ایجوکیشن کی کارکردگی اور نویں جماعت کے حالیہ امتحانی نتائج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں نویں جماعت کے نتائج پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ طلبہ کے امتحانی نتائج کو اساتذہ کی کارکردگی سے منسلک کیا جائے گا اور ناقص نتائج کے ذمہ دار اساتذہ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکومت نے ہر جماعت میں ماہانہ اور سالانہ امتحانات کے انعقاد کا اصولی فیصلہ بھی کیا ہے، جبکہ محکمہ سکول ایجوکیشن کو آئندہ ہفتے تک اصلاحات اور مکمل نظام الاوقات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اجلاس میں نویں جماعت میں 20 فیصد سے کم نتائج دینے والے سکولوں کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی گئی۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق ایسے تقریباً 2 ہزار 200 سرکاری سکولوں کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔
دوسری جانب بہترین نتائج دینے والے سکولوں، اساتذہ اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات اور تعریفی اسناد دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کی ہدایات کے مطابق 60 فیصد یا اس سے زیادہ نتائج دینے والوں کی حوصلہ افزائی جبکہ 80 فیصد یا اس سے زائد نتائج دینے والوں کو خصوصی اعزازات دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
سرکاری سکولوں میں کمزور طلبہ کے لیے شام کی اضافی کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ کمزور کارکردگی والے بچوں کو سکول سے نکالنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے 45 روز کے اندر ہیڈ ٹیچرز کی خالی اسامیوں پر بھرتی مکمل کرنے اور سرکاری سکولوں میں مضمون کے ماہر اساتذہ کی تعیناتی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیر تعلیم کو سکولوں کی نگرانی اور کارکردگی جانچنے کا مؤثر نظام مزید بہتر بنانے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔
اجلاس میں سکولوں کی ضلعی سطح پر ماہانہ کارکردگی کی درجہ بندی کا ڈیٹا طلب کیا گیا، جبکہ نگرانی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے متحدہ نگرانی ایپ متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
پنجاب میں کتابوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ’’کتب خانہ آن وہیل‘‘ منصوبے کا ابتدائی تجربہ لاہور سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ منصوبے کے تحت شمسی توانائی سے چلنے والی سہولت میں 20 ہزار سے زائد ڈیجیٹل کتابیں دستیاب ہوں گی، جبکہ ویڈیو کے ذریعے تعلیمی لیکچرز بھی فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے بیرونی انتظام کے تحت چلنے والے سکولوں کی کارکردگی رپورٹ بھی طلب کرلی۔
مریم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سکولوں میں محض نمبروں کی دوڑ کافی نہیں، بلکہ تعلیمی معیار میں حقیقی بہتری لانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی محنت طلبہ کے امتحانی نتائج میں نمایاں ہونی چاہیے۔