امریکی ایوان نمائندگان میں روس پر پابندیوں کا بل منظور
بل کے تحت صدر ٹرمپ کو ان ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا جو روسی تیل اور گیس کی خریداری جاری رکھتے ہیں
فائل فوٹو
امریکی ایوان نمائندگان نے روس کے خلاف نئی پابندیوں سے متعلق اہم بل منظور کرلیا ہے، جس میں روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دینے کی تجویز شامل ہے۔
لِنڈزی او. گراہم روس و ایران پابندی ایکٹ 2026 کے نام سے منظور کیے گئے اس بل کا مقصد روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔ قانون سازی میں روسی حکام، مالیاتی اداروں، توانائی کے شعبے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے تیل بردار جہازوں کے نیٹ ورک کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔
بل کے تحت صدر ٹرمپ کو ان ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا جو روسی تیل اور گیس کی خریداری جاری رکھتے ہیں۔ تاہم بل کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ تمام متعلقہ ممالک پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد کردیا جائے گا، بلکہ اس حوالے سے فیصلہ صدر کے اختیار میں ہوگا۔
بھارت اور چین روسی توانائی کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، اس لیے نئی قانون سازی دونوں ممالک کے لیے ممکنہ تجارتی اثرات کا باعث بن سکتی ہے۔ بھارت نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ روسی تیل کی خریداری پر نئے امریکی اقدامات دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرسکتے ہیں۔
قانون سازی میں روس کے ساتھ دفاعی تعاون سے متعلق ایرانی اداروں پر مزید پابندیوں کی گنجائش بھی شامل ہے۔ ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد بل اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس بھیج دیا گیا ہے۔