جیکب آباد میں پسند کی شادی پر جرگہ،نکاح ختم، لڑکی ورثا کے حوالے

شوہر شہباز خان دھرپالی پر 70 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

September 17, 2026 · قومی

فائل فوٹو

جیکب آباد: 2 سال قبل پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو جرگے نے کارو کاری قرار دے کر علیحدہ کردیا، نکاح ختم کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے لڑکی کو ورثا کے حوالے کردیا گیا جبکہ اس کے شوہر شہباز خان دھرپالی پر 70 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق صدر تھانے کی حدود بائی پاس پر بااثر وڈیرے کی سربراہی میں دھرپالی اور بروہی برادری کے فریقین کے درمیان جاری تنازع پر جرگہ ہوا، جس میں شہباز خان دھرپالی اور تین ماہ کی حاملہ صبا گل بروہی کو کارو کاری قرار دیا گیا۔

جرگے میں صبا گل بروہی کا نکاح ختم کرنے، اسے ورثاء کے حوالے کرنے اور شہباز خان دھرپالی پر 70 لاکھ روپے جرمانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق تنازع کے دوران قتل ہونے والے پرائمری استاد نثار دھرپالی کے قتل کا بروہی برادری پر 25 لاکھ روپے جرمانہ بھی مقرر کیا گیا، جسے دونوں فریقین کی جانب سے قبول کیے جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق شہباز خان دھرپالی نے 20 دسمبر 2024 کو گھر سے نکل کر صبا گل سے ہائی کورٹ میں پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد دونوں خاندانوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔

بعد ازاں 31 جولائی 2025 کو شہباز دھرپالی کے بھائی پرائمری استاد نثار دھرپالی کو سٹی تھانے کی حدود ٹاور روڈ پر واقع مرغی کی دکان میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ واقعے کا مقدمہ مقتول کے بھائی کی مدعیت میں 6 ملزمان کے خلاف درج کیا گیا، تاہم تاحال ملزمان گرفتار نہیں ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق نثار دھرپالی کے قتل کے بعد ان کے والد حاجی الہیار دھرپالی صدمے کے باعث مسلسل بیمار رہے اور 13 اپریل 2026 کو انتقال کرگئے، جس کے بعد خاندان مزید مشکلات کا شکار ہوگیا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جرگے سے دو ہفتے قبل ہی صبا گل کو اس کے ورثاء کے حوالے کردیا گیا تھا، جبکہ ایک روز قبل ہونے والے جرگے میں جوڑے کے نکاح کے خاتمے اور دیگر فیصلوں کی توثیق کی گئی۔