کوئٹہ پریس کلب میں کالعدم تنظیم سے وابستہ خواتین کے اہم انکشافات
بچیوں کو ورغلایا جاتا ہے، خواتین کی اپیل، شدت پسندوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔
کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتی ہوئی کالعدم تنظیم سے وابستہ رہنے والی خواتین
کوئٹہ پریس کلب میں کالعدم تنظیم سے وابستہ رہنے والی 2 خواتین خدیجہ پیر جان اور صفیہ عبدالخالق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں معصوم بچیوں کو ورغلا کر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہیں، لہذا خواتین شدت پسندوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور ملک مخالف سرگرمیوں کا حصہ بننے سے گریز کریں۔
تربت کے علاقے تمپ سے تعلق رکھنے والی خدیجہ پیر جان نے انکشاف کیا کہ وہ بولان میڈیکل کالج میں نرسنگ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ ان کے شوہر حاصل حرف دودا کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا، جنہوں نے پہلے ان کے بھائی کو تنظیم میں شامل کیا اور بعد ازاں انہیں بھی تنظیم کے لیے کام کرنے پر آمادہ کیا۔ خدیجہ کے مطابق انہیں کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بحالی کے عمل کے دوران انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اپنے کیے پر سخت شرمندہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران بسیمہ سے تعلق رکھنے والی دوسری خاتون صفیہ عبدالخالق نے بتایا کہ ان کے کزن اسرار کا تعلق کالعدم تنظیم بی ایل اے سے تھا، جس نے انہیں بھی تنظیم میں شامل کروایا۔ ان کے مطابق کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر نے انہیں نیا موبائل فون فراہم کیا تھا اور مبینہ خودکش حملے کے لیے گاڑی چلانے کی تربیت بھی دی گئی تھی، بعد ازاں سیکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کر لیا۔
دونوں خواتین نے زور دے کر کہا کہ کالعدم تنظیمیں مختلف طریقوں سے معصوم بچیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے دیگر تمام لڑکیوں اور نوجوانوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں اور ملک و قوم کے خلاف کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔