اپنے گاؤں کے پہلے ایس پی، اکبر شنواری کی بہادری اور فرض شناسی کی داستان

اکبر شنواری کو دورانِ ملازمت دھمکیاں بھی ملتی رہیں، تاہم وہ عموماً ان کا ذکر نہیں کرتے تھے اور اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔طفیل اکبر

September 19, 2026 · قومی
اپنے گاؤں کے پہلے ایس پی، اکبر شنواری کی بہادری اور فرض شناسی کی داستان

اپنے گاؤں کے پہلے ایس پی، اکبر شنواری کی بہادری اور فرض شناسی کی داستان

مردان: کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ایس پی اکبر محمد شنواری کی بہادری اور فرض شناسی کی یادیں اہل خانہ اور علاقے کے لوگوں کو سوگوار کر گئی ہیں۔

مردان کے گاؤں ہاتھیان میں اکبر محمد شنواری کے گھر پر تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں اہل خانہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی اور اپنے پیاروں کے ساتھ گزرے لمحات کو یاد کر رہے ہیں۔

اکبر محمد شنواری کے بھتیجے طفیل اکبر کے مطابق ان کے چچا نے پولیس سروس کا بڑا حصہ دیر، باجوڑ اور سوات جیسے حساس علاقوں میں دہشت گردی کے دوران گزارا اور متعدد خطرناک آپریشنز میں حصہ لیا۔

طفیل اکبر کا کہنا ہے کہ اکبر شنواری کو دورانِ ملازمت دھمکیاں بھی ملتی رہیں، تاہم وہ عموماً ان کا ذکر نہیں کرتے تھے اور اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔

اہل خانہ کے مطابق چند ہفتے قبل اکبر شنواری کے چھوٹے بھائی اور موٹروے پولیس کے سب انسپکٹر جاوید اکبر ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ بھائی کی موت نے اکبر شنواری کو شدید متاثر کیا اور وہ اپنے بھائی کو یاد کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اگر ان کی جگہ وہ دنیا سے چلے جاتے تو شاید بہتر ہوتا۔

طفیل اکبر کے مطابق جاوید اکبر کی موت کے بعد ان کے چچا نے کہا تھا کہ ’میں نے تو اپنی جان ہتھیلی پر رکھی ہوئی ہے، مگر میں بچ گیا اور میرا بھائی، دوست، یار اور غم خوار مارا گیا۔‘

18 ستمبر کو اکبر محمد شنواری خود کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں جان کی بازی ہار گئے۔

حکام کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز میں جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے حملے میں 23 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 17 سیکیورٹی اہلکار شامل تھے، جبکہ جوابی کارروائی کے دوران 8 حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق حملے میں پہلے بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کے قریب ٹکرائی گئی، جس کے بعد خودکش حملہ آور سمیت مسلح دہشت گردوں نے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد بعض شدت پسند اسپیشل برانچ کی عمارت میں داخل ہوگئے، جس کے بعد پولیس، ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی۔ کلیئرنس آپریشن رات گئے تک جاری رہا اور ہفتے کی صبح علاقے کو کلیئر قرار دیا گیا۔

اکبر محمد شنواری کا آبائی تعلق ضلع باجوڑ سے تھا۔ اہل خانہ کے مطابق تقریباً 60 سال قبل ان کے آباؤ اجداد روزگار کے سلسلے میں مردان کے گاؤں ہاتھیان منتقل ہوئے تھے، تاہم خاندان کا باجوڑ سے تعلق برقرار رہا۔

طفیل اکبر کے مطابق اکبر شنواری علاقے کے پہلے پولیس افسر تھے، تاہم مقامی لوگ انہیں صرف ایک ایس پی کے طور پر نہیں بلکہ اپنے دوست، ساتھی اور غم خوار کے طور پر دیکھتے تھے۔

ان کے مطابق علاقے کے لوگ ہسپتال، ڈاکٹر یا کسی سرکاری ادارے سے متعلق مسئلے کی صورت میں بھی اکبر شنواری سے رابطہ کرتے تھے۔ وہ عموماً ہفتے کے اختتام پر گھر آتے اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد ان سے ملاقات کے لیے پہنچتی تھی۔

اکبر محمد شنواری نے پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر صرف چھ ماہ ہے۔ اہل خانہ کے مطابق بیٹی کی پیدائش پر اکبر شنواری نے خصوصی خوشی کا اظہار کیا تھا۔

کوہاٹ حملے میں عام شہری خاندان بھی شدید متاثر ہوئے۔ متاثرین کے رشتہ داروں کے مطابق دھماکے کے بعد کئی خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں اسپتالوں کا رخ کرتے رہے۔

محمد تنویر کے مطابق ان کی بہن مسلسل اپنے شوہر محمد لقمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، جو بچوں کے ساتھ نماز کے لیے گئے تھے۔ بعد ازاں دھماکے کی اطلاع ملنے پر تنویر اسپتال پہنچے، جہاں انہیں لقمان اور دو کمسن بچوں کی لاشیں ملیں۔

تنویر کے مطابق لقمان کا بیٹا عبداللہ تقریباً ساڑھے چار سال کا تھا جبکہ دوسرا بچہ اسد تھا، جو لقمان کا بھتیجا اور تقریباً ساڑھے تین سال کا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق لقمان اپنے پیچھے بیوہ اور تین بیٹیاں بھی چھوڑ گئے ہیں، جن میں سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر نو ماہ ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز کا حملہ کئی خاندانوں سے ان کے پیارے چھین گیا، جبکہ جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ اور علاقے کے لوگوں میں سوگ کی فضا برقرار ہے۔