ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، وزارت خارجہ کے 6 افسران سمیت 22 ملزمان گرفتار
آبپارہ میں چھاپے، جعلی اپوسٹل اسٹیکرز اور سرکاری مہریں استعمال کرنے پر مقدمہ درج۔
وفاقی تحقیقاتی ادارہ یعنی ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے آبپارہ میں واقع کنسلٹنسی اور کوریئر کے دفاتر میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے جعلی اپوسٹل اسٹیکرز اور سرکاری مہریں استعمال کرنے کے الزام میں وزارت خارجہ کے 6 افسران اور اہلکاروں سمیت متعدد نجی ایجنٹس کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ 22 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
کارروائی کے دوران جعلی اپوسٹل اسٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے گھناؤنے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان میں وزارت خارجہ کے 6 افسران شامل ہیں جن کے عہدے پی اے اور ایل ڈی سی پر مشتمل ہیں جبکہ ملزمان میں 16 نجی ایجنٹس اور کوریئر، کنسلٹنسی آپریٹرز بھی شامل ہیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ قابل اعتماد ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں ایف اینڈ ایف پلازہ میں واقع کنسلٹنسی اور کوریئر دفاتر پر چھاپے مارے گئے، اس دوران جعلی اپوسٹل اسٹیکرز، سرکاری مہریں اور متعلقہ دستاویزات برآمد کی گئیں۔
تحقیقات پر انکشاف ہوا کہ اپوسٹل اور تصدیقی خدمات کے عمل کو تیز کروانے کے عوض درخواست گزاروں سے اضافی رقوم وصول کی جا رہی تھیں، جس میں وزارت خارجہ کے بعض افسران کی ملی بھگت بھی شامل تھی۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 48/2026 دفعات 420، 468، 471 اور 109 پی پی سی بمع 5(2) پریونشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کے تحت درج کیا گیا ہے اور ایف آئی اے نے عدالت سے گرفتار ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ بھی منظور کرا لیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق جعلی اپوسٹل دستاویزات کے ذرائع اور ترسیل نیٹ ورک کی مکمل چھان بین اور دیگر ملوث افراد کی شناخت کے لیے تفتیش جاری ہے جبکہ کوریئر کمپنیوں اور ایجنٹس کے دفاتر بھی سیل کر دیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے نے مزید واضح کیا ہے کہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعل سازی اور دستاویزی فراڈ میں ملوث عناصر چاہے وہ نجی ہوں یا سرکاری، سب کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔