امریکی صدر کا خطے میں بڑی تبدیلیوں کا عندیہ۔ مسعود پزشکیان سے ملاقات کا امکان

اہم پیش رفت، ٹرمپ نے 3 آپشنز دے دیے، ایرانی صدر کا امن مذاکرات کا خیرمقدم۔

September 21, 2026 · اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم فیصلوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور خطے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔

ایک انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اب بڑے فیصلے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے تہران کے سامنے 3 ممکنہ راستے رکھے جن میں ایران کو تباہ کرنا، اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانا یا پھر کسی معاہدے تک پہنچنا شامل ہے۔ امریکی صدر نے خبردار کیا کہ ایران کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنا ہوگا بصورت دیگر امریکا اس کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے گا۔

دوسری جانب، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمیں دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہنا ہوگا، لیکن اگر دشمن امن کی پیشکش کرے تو اسے رد نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کے لیے ہمارے دل میں کوئی نرمی نہیں ہے، ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن کسی دباؤ یا دھمکی کے سامنے ہرگز نہیں جھکیں گے۔ ایرانی صدر نے عزم ظاہر کیا کہ ہم معاہدہ کریں گے اور اس پر پوری ایمانداری سے قائم رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے مسائل حل کرنے کے لیے اتحاد اور یکجہتی ضروری ہے اور مستقل امن و سکیورٹی کے لیے ہونے والے ہر مذاکرات کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا۔ واضح رہے کہ چند روز قبل امریکا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ویزے منظور کیے تھے، تاہم وفد میں شامل حکام کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں کم رکھی گئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔