روسی پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ماسکو پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ

سیکڑوں ڈرونز مار گرائے گئے، آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا، حملوں میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔

September 21, 2026 · بام دنیا
ماسکو میں ڈرون حملے کے بعد ریسکیو آپریشن اور سکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔

ماسکو میں ڈرون حملے کے بعد ریسکیو آپریشن اور سکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔

روس میں جاری تین روزہ پارلیمانی انتخابات کے آخری روز یوکرین کی جانب سے دارالحکومت ماسکو اور اس کے گردونواح پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ماسکو کی ایک اہم آئل ریفائنری اور رہائشی عمارت کو شدید نقصان پہنچا جبکہ مختلف واقعات میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔

ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے بتایا کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے ہفتے سے اب تک 1,600 سے زائد ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا جن میں سے تقریباً 450 کا ہدف براہ راست ماسکو شہر تھا۔ انہوں نے اس کارروائی کو دارالحکومت پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیتے ہوئے اسے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔ ماسکو ریجن کے گورنر آندرے ووروبیوف کے مطابق ماسکو کے علاقے میں ایک ڈرون 21 منزلہ رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا جس کے بعد لگنے والی آگ کے باعث تقریباً 400 افراد کو بحفاظت نکالا گیا۔ گورنر نے تصدیق کی کہ مختلف مقامات پر ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں 1 بتیس سالہ خاتون اور 1 بزرگ شہری سمیت 2 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان حملوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں نے گزشتہ رات ماسکو کے خطے میں بہت نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے تصدیق کی کہ روس کی تیل کی صنعت کی کلیدی تنصیبات اور اس کی لاجسٹکس سہولیات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، یوکرین کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر قبول نہیں کی۔

روسی حکام کے مطابق انتخابی عمل کے دوران ملکی ال انتخابی نظام کو سائبر حملوں کی متعدد لہروں کا بھی سامنا کرنا پڑا جس کا مقصد ووٹنگ کے عمل میں خلل ڈالنا تھا۔ اس کے علاوہ روس کے زیر قبضہ جنوبی علاقے خیرسون میں بھی ایک یوکرینی ڈرون نے ایک بس کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کے 1 رکن سمیت مزید 2 افراد ہلاک ہو گئے۔ ماہرین کے مطابق انتخابات کے عین وسط میں ہونے والے ان حملوں نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔