ایم کیو ایم کا نئے انتظامی یونٹس کیلیے شفاف اور منصفانہ مردم شماری کا مطالبہ
شہری سندھ کو دہائیوں سے ناانصافی اور استحصال کا سامنا ہے،خالد مقبول صدیقی
فائل فوٹو
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے نئے انتظامی یونٹس کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے نئی، شفاف اور منصفانہ مردم شماری کا مطالبہ کردیا۔
ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد سے متصل پارک میں سینئر مرکزی رہنماؤں فاروق ستار، نسرین جلیل، وسیم اختر، اراکین مرکزی کمیٹی، قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گزشتہ روز کراچی کے عوام نے تمام تر جبر اور رکاوٹوں کو پاش پاش کرکے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کا عوامی اجتماع مصنوعی اکثریت اور غصب شدہ حقوق کے خلاف ایک ناقابل تردید ریفرنڈم تھا۔ ایم کیو ایم پاکستان مظلوم اور بالخصوص شہری سندھ کے عوام کی امیدوں کا آخری محور ثابت ہو رہی ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ شخصیات اور جماعت پر ریاست و مملکت کی سالمیت کو ترجیح دی، مگر افسوس کہ ہماری سیاسی رواداری اور ملک پرستی کو بھی ہمارے خلاف جرم بنا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 1970ء کے بعد سے شہری سندھ کو مسلسل ناانصافیوں اور استحصال کی چکی میں پیسا جا رہا ہے، لیکن اب شہری علاقوں کو طاقت کے زور پر غلام بنانے کا سلسلہ ہر صورت بند ہونا چاہیے۔
ایم کیو ایم چیئرمین نے کارکنان اور حق پرست شہریوں کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ شاہد ہے صبر کبھی جبر کے آگے سرنگوں نہیں ہوتا۔ گزشتہ روز کا اجتماع پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے تھا، ہمیں دھمکانے والے پہلے یہ دیکھ لیں کہ وہ کس پرعزم قوم سے مخاطب ہیں۔
نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم دھمکی نہیں بلکہ عقل و منطق پر مبنی دلیل دے رہے ہیں کہ بااختیار انتظامی یونٹس کا قیام اب پاکستان کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایوان کے اندر ہم اپنی تمام سیاسی و قانونی حجت تمام کرچکے ہیں اور اب عوامی فیصلے کی گھڑی آ پہنچی ہے جس کا تعین اب سڑکیں کریں گی۔
خالد مقبول صدیقی نے شفاف اور منصفانہ مردم شماری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی ہوس اقتدار صوبے کی انتظامی تقسیم اور عوام کی فلاح کے درمیان سب سے بڑی حائل دیوار ہے۔ ایم کیو ایم کی مثبت اور تعمیری سیاست ہی پاکستان کے مستحکم مستقبل کی ضامن ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسطی کراچی کے بعد اب ڈسٹرکٹ ویسٹ بھی اپنا تاریخی عوامی ریفرنڈم پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ خود ساختہ جمہوریت کے دعوے داروں میں اگر ہمت ہے تو وہ لاڑکانہ سے عوامی ریفرنڈم کا آغاز کریں۔ انتظامی تقسیم اب صرف ہمارا مطالبات نامہ نہیں بلکہ 25 کروڑ پامال شدہ عوام کی آخری آواز بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں چھ بااختیار گورنرز کا قیام وقت کا تقاضا ہے اور پورا خطہ اس تبدیلی کا منتظر ہے۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ پہلے ذمہ داری ہم پر ہے کہ ایم کیو ایم نے جو طرز سیاست وراثت میں دیا ہے اسے برقرار رکھیں۔ نام و نمود کرنے والے لوگ اگر پارٹی میں ہیں تو انہیں خدا حافظ کہنے کی ضرورت ہے۔