کوہاٹ پولیس لائنز دھماکا، 869 کلوگرام بارودی مواد استعمال ہونے کا انکشاف

دھماکے کے مقام، گڑھے کے حجم، استعمال ہونے والے بارودی مواد اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کا جائزہ لیا گیا ہے۔

September 22, 2026 · قومی
کوہاٹ پولیس لائنز دھماکا، 869 کلوگرام بارودی مواد استعمال ہونے کا انکشاف

کوہاٹ پولیس لائنز دھماکا، 869 کلوگرام بارودی مواد استعمال ہونے کا انکشاف

پشاور: کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے کی بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ مکمل کرلی گئی ہے، جس میں حملے کے دوران بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
بم ڈسپوزل یونٹ کی تفصیلی رپورٹ سنٹرل پولیس آفس کو ارسال کردی گئی ہے۔ رپورٹ میں دھماکے کے مقام، گڑھے کے حجم، استعمال ہونے والے بارودی مواد اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے میں مجموعی طور پر 869 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں بننے والے گڑھے کا ظاہری قطر تقریباً ساڑھے چھ فٹ بائی گیارہ فٹ جبکہ اس کی گہرائی چار اعشاریہ چھ فٹ ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کی ابتدائی شناخت بھی کرلی گئی ہے۔ حکام کے مطابق حملے میں انتہائی طاقتور نوعیت کا دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔
بم ڈسپوزل ٹیم نے اسپیشل برانچ کی عمارت کے اندر سے ایسا دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا جو پھٹ نہیں سکا تھا۔ کلیئرنس کارروائی کے دوران گراؤنڈ فلور سے دو دیسی ساختہ بم برآمد ہوئے، جبکہ پہلی منزل سے ایک خودکش جیکٹ بھی ملی۔
رپورٹ کے مطابق خودکش جیکٹ میں چار دیسی ساختہ بم نصب تھے۔ کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے کے بعد متعلقہ علاقے کو محفوظ اور قابو میں قرار دے دیا گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دھماکے کے بعد حملہ آور پرانی پولیس لائنز کوہاٹ میں داخل ہوئے اور اسپیشل برانچ کے بلاک میں مضبوط مورچہ قائم کیا۔
واضح رہے کہ 18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں دھماکا ہوا تھا، جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے میں کلیئرنس اور تفتیشی کارروائیاں شروع کی تھیں۔