توہینِ مذہب مقدمہ، جنید حفیظ کی اپیل پر لاہور ہائی کورٹ آج سماعت کرے گی

مذہبی دل آزاری پر مبنی الفاظ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرے کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

September 22, 2026 · قومی
توہینِ مذہب مقدمہ، جنید حفیظ کی اپیل پر لاہور ہائی کورٹ آج سماعت کرے گی

توہینِ مذہب مقدمہ، جنید حفیظ کی اپیل پر لاہور ہائی کورٹ آج سماعت کرے گی

توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے جنید حفیظ کی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر آج لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی۔
جنید حفیظ کے وکیل سیف الملوک کے مطابق یہ اپیل ماضی میں بھی کئی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر ہوئی، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اس پر کارروائی نہ ہوسکی۔ اب لاہور ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ اس اپیل کی سماعت کرے گا۔
بینچ میں جسٹس صادق محمود خرم اور جسٹس جواد ظفر شامل ہیں۔
راجن پور سے تعلق رکھنے والے جنید حفیظ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ انگریزی میں بطور وزٹنگ لیکچرار خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے فل برائٹ اسکالرشپ کے ذریعے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔
جنید حفیظ کے خلاف 2013 میں مذہبی دل آزاری کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر مذہبی دل آزاری پر مبنی الفاظ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرے کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مقدمے کی کارروائی ملتان سینٹرل جیل میں ہوئی۔ مقدمے کے دوران جنید حفیظ کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن راشد رحمان کو مئی 2014 میں ملتان میں ان کے دفتر میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔
دسمبر 2019 میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کاشف قیوم نے جنید حفیظ کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 295 اے، 295 بی اور 295 سی کے تحت مختلف سزائیں سنائیں، جن میں سزائے موت، عمر قید، 10 سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ شامل تھا۔
جنید حفیظ نے مذکورہ فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے اور ان کی اپیل پر آج سماعت مقرر کی گئی ہے۔