ترک صدر کا ویٹو اختیار ختم کرنے پر زور
عالمی اداروں کا نظام آج کی سیاسی، معاشی اور جغرافیائی صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتا
ترک صدر کا ویٹو اختیار ختم کرنے پر زور
ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ نظام میں وسیع اصلاحات پر زور دیتے ہوئے مستقل ارکان کے ویٹو اختیار کے خاتمے کی تجویز پیش کردی۔
بلومبرگ میں شائع ہونے والے مضمون میں رجب طیب اردوان نے کہا کہ عالمی اداروں کا نظام آج کی سیاسی، معاشی اور جغرافیائی صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتا، اس لیے اسے موجودہ حالات کے مطابق تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
ترک صدر کے مطابق حالیہ برسوں میں وبائی امراض، توانائی کے مسائل، عالمی رسد میں رکاوٹوں اور مختلف علاقائی تنازعات نے واضح کردیا ہے کہ بین الاقوامی بحرانوں کا فیصلہ صرف چند طاقتور ممالک کے دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا موجودہ ڈھانچہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے عالمی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایک ایسا نظام درکار ہے جو زیادہ نمائندہ، مؤثر، منصفانہ اور جواب دہ ہو۔
رجب طیب اردوان نے ترکی کے مؤقف ’’دنیا پانچ سے بڑی ہے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی معاملات میں ذمہ داری اور فیصلہ سازی کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف نئے مستقل ارکان شامل کرنے سے فیصلہ سازی کے اختیارات چند ممالک تک محدود رہنے کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
ترک صدر نے تجویز دی کہ کسی ایک ملک کو مستقل بنیادوں پر عالمی برادری کی اکثریت کی رائے روکنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے موجودہ نظام کو ختم کرکے ارکان کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
ان کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان کو جنرل اسمبلی کے ذریعے ایک مخصوص مدت کے لیے منتخب کیا جانا چاہیے، جبکہ دوبارہ انتخاب کے خواہش مند ممالک کے لیے جنرل اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد حاصل کرنا ضروری قرار دیا جائے۔
اردوان نے مزید کہا کہ عالمی امن، معاشی انصاف اور ترقی پذیر ممالک کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف خطوں کو مشترکہ اصولوں کے تحت بین الاقوامی فیصلہ سازی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔