اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ،دیگر صوبوں سے نفری طلب

سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے 8 ڈپٹی انسپکٹر جنرلز، 10 سینئر سپرنٹنڈنٹس، 40 سپرنٹنڈنٹس، 58 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس اور 246 انسپکٹرز سمیت دیگر افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گے۔

September 22, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں سے اضافی نفری کی آمد بھی شروع ہوگئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد میں 22 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ شہر کی سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے 8 ڈپٹی انسپکٹر جنرلز، 10 سینئر سپرنٹنڈنٹس، 40 سپرنٹنڈنٹس، 58 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس اور 246 انسپکٹرز سمیت دیگر افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گے۔

ممکنہ مارچ یا دھرنے کے پیش نظر ریڈ زون کی سیکیورٹی بھی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ مختلف شاہراہوں اور حساس مقامات پر تقریباً 1200 کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر سڑکوں کی بندش کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

موٹروے، ترنول اور سنجانی سے ریڈ زون تک آنے والی اہم شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی، جبکہ سری نگر ہائی وے اور ایکسپریس وے پر بھی سیکیورٹی بڑھانے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ بہارہ کہو کے مقام پر کنٹینرز لگا کر کشمیر کی جانب سے آنے والے راستوں کو بند کرنے کی تیاری بھی کی گئی ہے۔

ممکنہ صورتحال کے باعث مارگلہ روڈ سے ریڈ زون کی جانب آنے والا راستہ بھی بند کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ پولیس کے علاوہ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کے اہلکاروں کو بھی مختلف علاقوں سے اسلام آباد طلب کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اضافی سیکیورٹی اہلکاروں کے قیام کے لیے شہر کے تعلیمی اداروں کو استعمال کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں نصب 15 ہزار سے زائد نگرانی کے کیمروں کے ذریعے شہر کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی، جبکہ ہوٹلوں، سراؤں اور ریستورانوں کی نگرانی بھی سخت کردی گئی ہے۔

پولیس کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی کا بھی انتظام کیا گیا ہے، جبکہ وفاقی دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ مزید سخت کردی گئی ہے۔