پاکستان ترکی سعودی جنگ سے دور رہیں، حوثی رہنما
سعودی عرب یمن میں اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے پاکستان اور ترکی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔عبدالملک الحوثی کا دعویٰ
پاکستان ترکی سعودی جنگ سے دور رہیں، حوثی رہنما
یمن کے حوثی گروہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے پاکستان اور ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے گریز کریں۔
حوثی رہنما نے یہ بات 21 ستمبر کو حوثیوں کے زیر انتظام نشریاتی ادارے ’المسیرہ‘ پر نشر ہونے والی تقریر میں کہی۔ ان کا خطاب صنعا پر حوثیوں کے قبضے کے بارہ سال مکمل ہونے کے موقع پر نشر کیا گیا، جسے حوثی گروہ ’21 ستمبر کا انقلاب‘ قرار دیتا ہے۔
عبدالملک الحوثی نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب یمن میں اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے پاکستان اور ترکی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے سعودی کارروائیوں کو یمنی عوام کے خلاف مبینہ ’جارحیت اور زیادتی‘ قرار دیا۔
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں ’مکہ دفاعی معاہدے‘ کے نام سے ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی طے پایا ہے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اپنی تقریر میں حوثی رہنما نے دعویٰ کیا کہ 20 ستمبر تک حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر سعودی فضائی حملوں کی تعداد 760 ہوچکی ہے۔ تاہم انہوں نے ان حملوں کے لیے کوئی واضح مدت بیان نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان یا ترکی کو اتنے فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا تو یہ دونوں ممالک کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ ہوتا۔
عبدالملک الحوثی نے جنگ کے خاتمے اور ان کے بقول سعودی محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ انہوں نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا کہ وہ یمن کو تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم کرنے اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حوثی رہنما نے پاکستان اور ترکی کے عوام سے متعلق سوال اٹھایا کہ کیا وہ اسی نوعیت کی معاشی پابندیوں یا سعودی حکومت کی مبینہ سیاسی مداخلت کو قبول کریں گے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ سعودی عرب پاکستان اور ترکی کی حمایت حاصل کرنے کے ساتھ شام سے بھی جنگجوؤں کو لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عبدالملک الحوثی نے اسلام آباد اور انقرہ پر زور دیا کہ وہ ریاض کی جانب سے پیش کیے جانے والے کسی بھی ممکنہ سیاسی یا مالی فائدے کو نظر انداز کریں۔
امریکا سے متعلق گفتگو میں حوثی رہنما نے دعویٰ کیا کہ امریکی اقدامات سعودی فضائی حدود میں میزائلوں کو روکنے تک محدود رہے ہیں اور واشنگٹن یمن میں سعودی عرب کی جانب سے ممکنہ کشیدگی میں اضافے کی حمایت کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
حوثی رہنما کے یہ تمام الزامات اور دعوے ان کی تقریر میں کیے گئے مؤقف پر مبنی ہیں۔